اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنسز کے خلاف احتجاج پر وکلاء تقسیم
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنسز کے خلاف احتجاج پر وکلاء تقسیم ہو گئے، گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس سلسلے میں ملک بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
ملک کے بیشتر شہروں اور عدالتوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ کچھ شہروں اور عدالتوں میں وکلاء عدالتوں میں پیش بھی ہو رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے معاملے پر کراچی میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنسز کے معاملے پر وکلاء 2 گروپوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔
سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ بار میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کی کال پر آج عدالتوں کی تالہ بندی کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں جزوی ہڑتال کی جا رہی ہے، عدالتوں میں وکلاء ارجنٹ نوعیت کے مقدمات میں پیش ہو رہے ہیں ۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے پرسپریم کورٹ بار کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باوجود لاہور کی تمام عدالتوں میں معمول کے مطابق کام جا ری ہے۔
وکلاء دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کےجسٹس قاضی فائزعیسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت کے خلاف لاہور میں وکلاء کی ہڑتال نہیں ہوئی۔
لاہور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں وکلاء معمول کے مطابق پیش ہو ئے،گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن، لاہور بار ایسوسی ایشن اور پنجاب کونسل نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے ۔
اس ضمن میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان الله کنرانی کا کہنا ہے کہ وکلاء کے دونوں بڑے گروپس کے سربراہ ہمارے ساتھ موجود ہیں، آئین و قانون کے لیے سب اکھٹے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان کے وکلاء نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اتحاد سب دیکھ سکتے ہیں، ہماری جدوجہد عدلیہ کی آزادی کے لیے ہے۔
صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہماری آواز کو دبایا جاتا ہے، آج آواز دبائیں گے ،کل آپ کو بھگتنا پڑے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں عدالتیں بند ہیں اور عدالتوں میں سناٹے ہیں، امید ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین و قانون کے مطابق ریفرنس کو واپس کر دے گی، ایک جج کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس کی علامتی کاپی کو جلایا۔
سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک میں سرگرم قانون دان علی احمد کرد ججز کے خلاف ریفرنس کے معاملہ پر میدان میں آ گئے کہا اگر ریفرنس واپس نہ لیا گیا تو ایسی تحریک چلے گی کہ کوئی نہیں روک سکے گا
علی احمد کرد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی طبقہ سمجھتا ہےکہ وکلاکو شکست دے دے گاتویہ اس کی خام خیالی ہے،آج یہ جولولی لنگڑی جمہوریت ملک میں ہےوہ وکلا کی وجہ سے ہے ،علی احمد کرد نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک جج کا معاملہ نہیں پورے ملک کا معاملہ ہے،افسوس ہے ایک چھوٹاسا گروہ اس تحریک کو سبوتاژکرنے کی کوشش کررہا ہے ،علی احمد کرد کا مزید کہنا ہے کہ ایسا کوئی احتجاج نہیں جو قومی نوعیت کا ہو اور میں شامل نہ ہوں۔