Jun 19, 2019 10:25 pm
views : 300
Location : National Assembly
Islamabad- Opposition Leader Shahbaz Sharif Rejects Budget
اسلام آباد،شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بجٹ 20-2019 مسترد کردیا
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے چین کے ساتھ پورٹ قاسم میں ساڑھے 12 سو میگا واٹ کے منصوبے، ہائیڈرو پاور اور دیگر سڑکوں کے منصوبوں پر معاہدے کیے۔ انہوں نے بجٹ 20-2019 مسترد کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا خدا کر کے یہ موقع آیا کہ سکون سے ایوان میں بات کر سکیں، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالیہ بجٹ کو واپس لے کر ایک نیا اور عوام دوست بجٹ پیش کرے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے کاندھوں پر بھاری ذمے داری ہے، ارکان کا ایوان میں ہونا اور اپنے حلقے کی نمائندگی بہت اہم ہے۔ امید ہے کہ جو ارکان موجود نہیں ان کی حاضری یقینی بنائیں گے۔
ابہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاسوں کے دوران طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، تحریک انصاف کے ارکان نے جو بدتمیزی اور زبان استعمال کی وہ ناقابل بیان ہے۔ 2013 میں عوام نے اپنے اصل ووٹوں سے ن لیگ کو منتخب کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے سیاسی طور پر فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، اداروں نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور انہیں ختم کیا۔ مسلح افواج نے دہشت گردی سے ملک کو بچانے میں عظیم قربانیاں دیں۔ جو ملک ہم سے پیچھے تھے آج ان کی فی کس آمدن ہم سے زیادہ ہے، افغان کی کرنسی آج پاکستان کے روپے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ہم نے 5 سال میں یا کسی اور نے ماضی میں سب کچھ ٹھیک نہیں کر دیا تھا۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بجٹ 20-2019 مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا تھا بجٹ وصولی 8 ہزار ارب لے جاؤں گا، جو 4 ہزار ارب کا ہدف پورا نہ کر سکے وہ ساڑھے 5 ہزار کا ہدف کیسے پورا کریں گے۔ ہر جگہ کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ن لیگ بالواسطہ ٹیکس لگاتی ہے، آج 5 ہزار 500 ارب کے ٹیکس ہدف میں 70 فیصدبالواسطہ ٹیکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بجٹ میں تعلیم کے لیے 97 ارب رکھے تھے انہوں نے 20 ارب کم کر دیے، صحت کے لیے ہمارا وفاقی بجٹ 1113 ارب تھا انہوں نے 1100 ارب کر دیا، عمران خان کہتے تھے جنگلہ بس 70 ارب میں بنا ہے۔ کہتے تھے ہم پیسہ صحت، تعلیم اور صنعت پر لگائیں گے۔ پھر اچانک بی آر ٹی منصوبے کا اعلان کر دیا گیا۔