لارڈز، پاکستان،بنگلادیش سے جیتنے کے بعد بھی سیمی فائنل سے باہر
قومی ٹیم کے نوجوان فاسٹ بولر شاہین آفریدی ورلڈکپ میں 5 وکٹیں لینے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔
انیس سالہ نوجوان بولر نے کینیا کے کولنس ابویا کا ریکارڈ توڑا جو انہوں نے 2003 کے ورلڈکپ میں 21 سال کی عمر میں سری لنکا کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کر کے بنایا تھا۔بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے بنگلادیش کے خلاف تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 35 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔شاہین آفریدی نے حالیہ ورلڈکپ کے 5 میچز میں 16 وکٹیں حاصل کیں جو کسی بھی نوجوان فاسٹ بولر کی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔
بنگلادیش کے خلاف شاہین آفریدی کی طوفانی بولنگ نے بنگلادیشی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دیئے، پاکستان کے 316 رنز کے جواب میں بنگلادیش کی پوری ٹیم 221 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
بنگلہ دیش سے میچ کے بعدمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی کا کہنا تھا میں اللہ کا بہت شکر گزار ہوں اور اپنی پرفارمنس کے لئے میں اور میری فیملی بہت خوش ہے، میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے پینتیس رنز دے کر چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
صحافی کی جانب سے سیمی فائنل سے باہر ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ چار میچز اچھا کھیلنے کے باوجود ہم سیمی فائنل میں نہیں جا سکے مگر یہ سب کھیل کا حصہ ہے ہم نے پچھلے میچز بہت اچھے کھیلے ہیں۔
شاہین آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ یہ میرا پہلا ورلڈ کپ ہے جسے کھیل کے میں انتہائی خوشی محسوس کررہا ہوں، یہ میرے اور دیگر کھلاڑیوں کے لئے اچھا موقع ہے۔
پاکستان کی بنگلہ دیش سے فتح کے ساتھ گرین شرٹس کا مشن ورلڈکپ اختتام پذیر ہوگیا، قومی ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے 311 رنز سے فتح درکار تھی تاہم گرین شرٹس کا یہ خواب لارڈز کے تاریخی میدان میں پورا نہ ہوسکا۔