کراچی، حضرت امام حسین کی یاد میں گھروں میں عزا خانے سجانے کا اہتمام
سید الشہدا حضرت امام حسین ؓاور انکے اصحاب کی یاد میں عزاران حسین کی جانب سے گھروں میں عزا خانے سجائے جاتے ہیں جن میں امام حسین اورانکے رفقاء سے منسوب اشیا کی تشبیہ رکھی جاتی ہیں اور عزاداران سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں،جن میں حضرت علمدار سے منسوب علم انکی بہادری کو بیان کرتا ہے جبکہ علم کے ساتھ موجود مشکیزہ جو امام حسین کی دختر کی یاد کو تازہ کرتا ہے وہیں اصحاب کربلاکی پیاس کو بھی بیان کرتا ہے،عزا خانوں میں رکھا جھولاکربلا میں جان دینے والے چھ ماہ کے ننھے حضرت علی اصغر کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور امام حسین کے گھوڑے ذوالجناح کی شبیہ اسکی امام سے محبت کی یاد کو تازہ کرتی ہے۔
عزا خانوں میں آنے والی خواتین اہلبیت کے وسیلے سے اپنی حاجات بھی طلب کرتی ہیں،جبکہ منتیں بھی مانگی جاتی ہیں۔
اہل تشیع مکتبہ فکر کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اہل بیت اطہار کی محبت کا حکم اللہ کریم نے قرآن پاک میں بھی دیا ہے اوریہ ہستیاں اللہ کے دین کی پہچان ہیں۔
عزاداران کا کہنا ہے کہ کربلا کی جنگ حق و باطل کی جنگ تھی جس میں امام حسین ؓ نے اپنی اور اپنے اہل عیال کی جانوں کو قربان کرکے دین کو بچایا،ہم یہ سب انکی یاد میں کرتے ہیں،اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے گفتگو کرتے ہوئے ایک عزادار خاتون کا کہنا تھا کہ ہم رہیں یا نہ رہیں عزاداری قائم رہے گی۔
مولانا محمد حسین مسعودی کا کہنا تھا کہ اہل بیت کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اللہ پاک نے بھی قرآن کریم میں اہل بیت سے محبت کا حکم دیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اہل بیت اللہ کے دین کی پہچان ہیں،ہم اہل بیت سے اللہ کے دین اور اللہ کے دین سے اہل بیت کو پہچانتے ہیں۔
مولانا محمد حسین مسعودی نے امام حسین کی شان بیان کرتے ہوے شعر کہا کہ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ۔