آئی جی سندھ کو ہٹاناہے تو اس کی چارج شیٹ اسمبلی میں لائی جائے، آئی جی پر لگے الزمات ثابت کیے جائیں،حلیم عادم شیخ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ آئی جی کا ٹینیور 3 سال کا ہوتا ہے، اس کو ہٹاناہے تو اس کی چارج شیٹ اسمبلی میں لائی جائے، آئی جی پر لگے الزمات ثابت کیے جائیں۔
پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان واحد لیڈر ہیں جنہوں نے 30سال کی گند کو صاف کیا ہے ۔
حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ کرپٹ مافیا اگر باہر ہیں تو ان کی وہ رہائی بھی عارضی ہے، جیلیں ان کا انتظار کر رہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ملک قرضوں میں اور کرپشن میں گہرا ہوا تھا،تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دلیرانہ فیصلوں سے ملکی صورتحال کو بہتری کی طرف گامزن کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کا ڈھونگ رچایا گیا، اس میں کچھ ہماری اپنی بھی کوتاہی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ سب نے ملک کو لوٹا کسی نے جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے اور کسی نے شوگر ملز کے ذریعے یہ کام کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ نوکریوں فراہم کرینگے،انہوں نے سو ارب روپے نوجوانوں کو لون دینے کے لئے رکھے ہیں،اور اس سلسلے میں سندھ میں 70 ہزار درخواستیں بھی منظور ہوچکی ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں،190 ارب احساس پروگرام کے لئے رکھے گئے ہیں،اور اس پروگرام میں ہیلتھ کارڈ بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 70 لاکھ نادار خواتین کو کفالت دار کارڈ بھی دیئے جا رہے ہیں،جبکہ کارڈ پر کسی جماعت کے رہنما کی تصویر نہیں بلکہ بانی پاکستان کی تصویر لگی ہے۔
حلیم عادل نے کہا کہ صوبے میں آٹے بحران کی تمام ذمہ دار سندھ حکومت ہے،سندھ کے چوہے اور حکمران آٹا کھا گئے،سندھ کے ناکام حکمران اسکے تمام تر ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے بند ہونے جا رہی تھی آج ایک بار پھر وہ اپنی راہ پر گامزن ہے،ملک اپنی درست سمت پر جا رہا ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ مراد علی شاہ ایک بل پاس کروادیں،جو آپ کے خلاف آواز اٹھائے اس کی گردن اڑا دیں،کیونکہ جب تک یہ بل پاس نہ ہوگا ہماری آوازیں نکلتی رہیں گی۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ شاہ صاحب نے کل ایک خط لکھا، اس خط میں صاف انتقام اور غصہ نظر آرہا ہے
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا ہے، وزیراعظم کو خط لکھنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
حلیم عادل کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے باہر الگ اور عدالت میں الگ باتیں کی ہیں،آئی جی کا ٹینیور 3 سال کا ہوتا ہے،اس کو ہٹاناہے تو اس کی چارج شیٹ اسمبلی میں لائی جائے،آئی جی پر لگے الزمات ثابت کیے جائیں۔