کراچی،بے نظیر کا نام لوگوں کے دلوں میں لکھا ہوا ہے،سعید غنی
وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود اتفاقے رائے سے منظور کیا گیا۔ اگر کسی نے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن پورے پروگرام کو غلط کہنا ٹھیک نہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے پر پاکستان پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔ کراچی پریس کلب پر ریلی کے شرکاء سے خطاب میں وزیراطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں 2010ء بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت نہ ہونے کے باوجود اتفاقے رائے سے منظور ہوا۔ حکمراں کہہ رہے ہیں اسے سیاسی نام دیا گیا۔
سعید غنی نے کہا کہ 2013ء میں (ن) لیگ کے دور میں بھی اس کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ قانون کے بغیر نہیں ہوسکتا تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔ 2010ء میں جب یہ پروگرام شروع ہوا تو تمام ممبرز کو یکساں یہ فارم تقسیم کیے۔ ہر ممبر کو 8 ہزار فارم دیئے گئے اور کہا گیا یہ فارم اپنے حلقے کے غریب لوگوں میں تقسیم کریں۔ یہ کہنا کہ فارم صرف پیپلز پارٹی کے لوگوں کو دیئے گئے غلط ہے۔ ہم بے نظیر مزدور کارڈ لا رہے ہیں۔ بے نظیر کا نام لوگوں کے دلوں میں لکھا ہوا ہے۔
مظاہرے میں شریک سیدہ اقربا فاطمہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کا نام اور انکی تصویر ہٹانے کی ہر پلیٹ فارم پر مذمت کریں گے،بے نظیر ہمارے دلوں میں زندہ ہین اور ہمیشہ زندہ رہیں گی۔