لندن، نواز شریف نے صاحبزادی مریم نواز کے لندن آنے تک علاج کرانے سے انکار کردیا ، شہباز شریف
سابق وزیراعظم نواز شریف نے صاحبزادی مریم نواز کے لندن آنے تک علاج کرانے سے انکار کردیا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ کارنری انٹروینیشن کا آپریشن نواز شریف کی خواہش کے مطابق موخر کردیا گیا ہے، نواز شریف کی خواہش تھی کہ ان کے آپریشن کے وقت مریم نواز ان کے ہمراہ ہوں، گزشتہ جمعرات کو کارنری انٹروینیشن کا آپریشن ہونا تھا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے مطابق روبیڈیم کارڈیک پیٹ اسکین کی رپورٹ میں نواز شریف کو دل کی شدید بیماریوں کی نشاندہی ہوئی تھی جب کہ بند شریانوں کی بندش ختم کرنے کے لیے ان کی کارڈیک کیتھیٹائزیشن کی جانی تھی۔
محمد شہبازشریف نے محمد نوازشریف کی صحت سے متعلق بیان میں کہا کہ نوازشریف کی صحت بدستور تشویشناک اور غیرمستحکم ہے، ان کے علاج کے لئے ضروری عمل میں دو مرتبہ تبدیلی کرنا پڑی کیونکہ ان کی صاحبزادی مریم کو پاکستان سے آنے کی اجازت نہیں دی گئی جو ایسے وقت میں اپنے والد کے پاس ہونا چاہتی ہیں۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی صحت کی صورتحال نازک ہے، شریک حیات کھودینے کے شدید غم نے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے، اپنی زندگی کے اس مشکل ترین وقت میں مریم نواز ان کے لئے ڈھارس بنیں۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ انتہائی افسوسناک ہے کہ انہیں اپنے والد کی دیکھ بھال کے لئے آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، مریم کے نواز شریف کے پاس نہ ہونے کی بناءپر ماہر امراض قلب کو دو بار ’کارڈیک کیتھیٹرائزیشن‘ کا طے شدہ عمل تبدیل کرنا پڑا، جتنا وقت گزررہا ہے اتنا ہی طبی عمل کے لئے گنجائش کم ہورہی ہے، میاں صاحب کی صحت کی تشویشناک حالت کے پیش نظر مریم نوازکو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے والد کے پاس آنے کی اجازت دی جائے۔