May 20, 2020 05:32 pm
views : 239
Location : domestic place
Karachi- People from other provinces are unable to celebrate Eid with their loved ones due to the closure of transport.
کراچی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث کراچی میں موجود پردیسی اپنوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منانے سے محروم
شہر کراچی جس کی آبادی لگ بھگ ڈھائی کروڑ کے قریب ہے، پاکستان کا سپورٹ سسٹم سمجھا جاتا ہے، پاکستان کے اندرونی شہروں اور علاقوں سے روزگار کے حصول کیلئے آتے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وباء نے جہاں تمام صوبوں کو متاثر کیا ہے وہیں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بری متاثر متاثر ہوا ہے۔افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی میں موجود وہ لوگ جو ہر عید پر اپنے پیاروں کے پاس اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے اس سال اس خوشی سے محروم ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کا نہ چلنا جن میں ہوائی جہاز، ٹرینیں اور کوچز شامل ہیں اور پرائیویٹ گاڑیوں کا کرایہ حد سے زیادہ ہونا کسی قیامت سے کم نہیں۔
کراچی شہر میں تقریبا 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار سے زائد گاڑیاں پورے ملک کیلئے جاتی تھیں لیکن اب کورونا وائرس کے باعث عائد کئے گئے لاک ڈاؤن کے قانون کے مطابق یہ گاڑیاں اب تقریبا 2 مہینوں سے یہیں کھڑی ہیں۔
صرف کراچی سے اندرون سندھ جانے والے افراد ہی اس مسئلے سے دوچار نہیں بلکہ کوچز اور بسوں کے مالکان بھی حکومت سے ٹرانسپورٹ کی بحالی کی اپیل کررہے ہیں۔
اس لاک ڈاون میں جہاں ہر فرد اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گھروں میں پرسکون وقت گزار رہا ہے وہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو عید جیسی بڑی خوشیوں میں اپنے پیاروں سے ملتے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ نہ تو ان کے پاس کمانے کا ذریعہ ہے اور نہ ہی اپنوں کے پاس جانے کا
چونکہ اب حکومت دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے مسئلے پر روشنی ڈال رہی ہے وہیں کراچی سے اندرون سندھ جانے والے لوگوں کے اس مسئلے کے لئے بھی مناسب اقدامات کرنے چاہیئں۔