اسلام آباد، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل پانچ سال بعد مکمل، فیصلہ محفوظ کرلیا گیا
ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بڑی پیش رفت ہوگئی ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ایف آئی اے پراسیکوٹر خواجہ امتیاز احمد نے حتمی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے، اشتہاری ملزمان بانی ایم کیو ایم اور انور حسین کیخلاف عمران فاروق کے قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
ایف آئی اے پراسیکوٹر نے عدالت استدعا کی کہ بانی متحدہ کی پا کستان میں منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے کہا کہ یہ حکم پہلے ہی دے چکے ہیں اب آپ ضبط کرنےکی کارروائی شروع کریں۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔