کراچی،پی آئی اے طیارہ حادثہ؛ ڈیوٹی پر موجود ایئرٹریفک کنٹرولر بھی شامل تفتیش
تحقیقاتی ٹیم نے پی آئی اے طیارہ حادثے میں ڈیوٹی پر موجود ایئرٹریفک کنٹرولر کو بھی شامل تفتیش کرلیا ہے۔
ذرائع
کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے پی آئی اے طیارہ حادثے میں ڈیوٹی پر موجود
ایئرٹریفک کنٹرولر کو بھی شامل تفتیش کرلیا ہے، دوران پرواز اپروچ کے وقت
ایئر ٹریفک کنٹرولر کو ہوابازی کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق آربٹ دینا
چاہیے تھا، لینڈنگ سے قبل چیک گیئرز ان لاک کے عمل کو ہر صورت ممکن بنانا
تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلی ناکام لینڈنگ کے بعد ایئرٹریفک کنٹرولر
کی جانب سے کپتان کو مطلع کرنا لازم تھا کہ جہاز کا انجن رن وے سے ہٹ ہوا
ہے، ایئرٹریفک کنٹرولر کے فرائض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ کپتان کو
انفارم کرتا کہ لینڈنگ گئیر ڈاؤن ہوا ہے یا نہیں، لینڈنگ کلیئرنس سے قبل
لینڈنگ گئیر کا اہم ترین پراسیجر ائیرٹریفک کنٹرولر کی ذمہ داری ہے۔
دوسری
جانب انٹرنیشنل فیڈریشن ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن نے تحقیقاتی ٹیم کے
سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی کو خط لکھا ہے جس میں کراچی میں گر کر تباہ
ہونے والے پی آئی اے طیارہ کی تحقیقات کے لئے خدمات پیش کی گئی ہیں، صدر
انٹرنیشنل پائلٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے طیارہ حادثے کی
تحقیقات میں بطور ایکسپرٹ شامل ہونا چاہتے ہیں۔
فرانسیسی ماہرین کی11
رکنی ٹیم پاکستان میں 16 گھنٹے تحقیقات کرے گی، فرانسسی ماہرین کا خصوصی
طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر 26 مئی کی صبح لینڈ کرے گا۔
ماہرین پر واز اے
آئی بی 1888 کے ذریعے کراچی پہنچیں گے، مذکورہ ٹیم پی آئی اے طیارہ حادثے
کی جگہ کا دورہ کرے گی۔ فرانسیسی ماہرین کی ٹیم پاکستان کی تحقیقات کرنے
والی ٹیم کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔