Jan 06, 2021 04:40 pm
views : 214
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- A goat thief goes to jail in country and those involved in major corruption are free, Supreme Court
اسلام آباد، ملک میں بکری چور جیل جاتا ہے اور بڑی کرپشن والے آزاد ہیں، سپریم کورٹ
جعلی اکاؤنٹس کے ملزم ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے لیکن سرکاری افسران کی ضمانت کی مخالفت کریں گے۔
جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، نیب چھوٹے افسران کو پکڑ لیتا ہے اور اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتا، نیب کے پاس اپنی مرضی سےکام کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانا ہے یا نہیں؟ ملک میں بکری چور 5 سال جیل چلا جاتا ہے جبکہ اتنی بڑی کرپشن کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر 24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔
جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہا کہ نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر مہربانی کروں، نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا ملک سے باہر نہیں جا سکتے، وہ نیب کے ساتھ تفتیش میں تعاون کریں گے۔