کراچی، ڈینیل پرل قتل کیس میں توہین عدالت پر چیف سیکریٹری سندھ سمیت دیگر طلب کرلئے گئے
ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان کو رہا نہ کرنے پر توہین عدالت کے کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ قتل کیس کی اپیل اور حراست میں رکھنا دو الگ معاملے ہیں۔ قتل کیس کی سماعت تو سپریم کورٹ میں چل رہی ہے۔ حراست میں رکھنے کا معاملہ آپ قتل کیس اپیل سے کیسے ملا سکتے ہیں۔ جونیئر وکیل نے موقف دیا کہ محمود اے شیخ سپریم کورٹ میں دلائل دیں گے۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس میں کہا کہ کل سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی اس کا فیصلہ کہاں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ نے رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ عین ممکن ہے سپریم کورٹ نے سمجھا کہ اپیل کا فیصلہ ہوگا، مزید ضروری نہیں۔ بادی النظر میں سپریم کورٹ نے ملزمان کو مزید حراست میں رکھنے کا نہیں کہا۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے موقف دیا کہ بہتر رہے گا سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیا جائے۔
عدالت نے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام اعلی حکام کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے تمام فیصلے بھی طلب کر لیے۔