اسلام آباد، سانحہ مچھ کے شہداء کو میری آمد تک نہ دفناکر بلیک میل نہیں کیا جاسکتا،وزیراعظم
اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زونز کی لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ہزارہ کمیونٹی پر سب سے زیادہ ظلم ہوا، جتنا ظلم ان پر ہوا پاکستان میں کسی پر نہیں ہوا، مچھ میں ہزارہ کمیونٹی کے گیارہ افراد کو بڑی بے دردی سے قتل کیا گیا، ہمارے ہزارہ کے لوگ بڑی مشکل میں بیٹھے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں نے چار بڑے واقعات کو رونما ہونے سے روکا، کابینہ میں بتایا تھا کہ علما کو قتل کرکے انتشار پھیلایا جائیگا، بڑی مشکل سے ہم نے یہ آگ بجھائی۔
دوسری طرف اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر ہے، پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی اطلاعات ہیں، ہم نے سرگودھا اسلام آباد اور کراچی سے دہشت پکڑے ہیں، ہم نے چار ایسے گرہوں کو پکڑا جو شیعہ سنی کے درمیان لڑائی کروانا چاہتے تھے، جب کہ ہزارہ کمیونٹی کے قتل میں انٹرنینشل مافیا ملوث ہے۔
سانحہ مچھ کے متاثرین کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا چھٹے روز مین داخل ہوگیا ہے، سخت سردی میں خواتین، بوڑھے اور بچے بھی دھرنے میں بیٹھے ہیں۔ سانحہ مچھ کے متاثرین سے یکجہتی کیلئے ملک بھر میں دھرنے جاری ہیں۔ کراچی کے انتیس مقامات پر بھی سانحہ مچھ کے متاثرین سے یکجہتی کیلئے دھرنا جاری ہے۔ان مقامات میں پاور ہاؤس چورنگی، نمائش، کامران چورنگی، سفاری پارک، شارع فیصل نزد فلک ناز اپارٹمنٹ، ملیر پندرہ، عباس ٹاؤن، نیپا چورنگی، شاہ فیصل برج، خدا کی بستی، مسکن چورنگی، ناظم آباد چورنگی نمبر ایک، جوہر موڑ،کورنگی نمبر ڈیڑھ اور دو، اسٹیل ٹاؤن چورنگی، انچولی،بورڈ آفس ناظم آباد، صفورہ چورنگی کرن ہسپتال، کے ڈی اے فلیٹ سرجانی، عائشہ منزل، ٹاور، میٹرو برج جانب کالونی، ناگن چورنگی، پیپلز چورنگی نارتھ ناظم آباد، ضیاء الدین سے لنڈی کوتل، اسٹار گیٹ، کورنگی کراسنگ، ملٹری گیٹ شاہراہ فیصل اور سنگر چورنگی کورنگی شامل ہیں۔