Aug 05, 2022 04:30 pm
views : 261
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- If corruption is done on public money, it is a violation of fundamental rights, CJP Remarks
اسلام
آباد، نیب ترامیم،حکومت نے اپنے گناہ معاف کرالئے جسٹس اعجازالاحسن کے
ریمارکس، وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث کہتے ہیں عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی
آئینی ڈھانچے سے متصادم ہونے پر کالعدم کرسکتی ہے
سپریم
کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سپریم
کورٹ نے نیب ترامیم پر نیب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ
نیب قانون میں بہت ساری ترامیم کی گئی ہیں، نیب قانون میں کی گئی ترامیم
اچھی بھی ہیں۔
وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے کہا کہ موجودہ ترامیم آئینی
مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے، عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی آئینی ڈھانچے سے
متصادم ہونے پر کالعدم کرسکتی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آزاد عدلیہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شامل ہے، نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا؟۔
جسٹس
اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا موقف ہے نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات
کو کم کردیا گیا، کیا احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے۔ خواجہ حارث نے
جواب دیا کہ گڈ گورننس کیلئے احتساب ضروری ہے، احتساب کے بغیر گڈگورننس کا
تصور نہیں ہو سکتا، نیب ترامیم سے زیر التواء مقدمات غیر موثر ہوگئے۔
جسٹس
منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کچھ ترامیم کو ایک سطح تک لانے کا کہہ رہے
ہیں ، کل حکومت نیب کو ہی ختم کردے تو کیا آپ نیب بنوانے کیلئے آئیں گے؟
خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز ختم ہوچکے۔
وکیل
وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے
تیسرے چیمبر میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، نیب کے کئی کیسز لڑے
ہیں، معزز ججز کو معلوم ہے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کیا ہوتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔