کراچی،
ڈالر حکومتی کوششوں سے نیچے آیا، ستمبر تک مشکلات رہیں گی، وزیر خزانہ
کہتے ہیں دنیا سے ادھار مانگتے شرم آتی ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیا مشکل
ترین حالات میں ہے، ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں
کراچی
چیمبر آف کامرس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا
کہنا تھا کہ درآمدی شعبے کے خام پر عائد پابندی ختم کر دیں گے، خسارہ کم
کرنے کے لیے خریداری کم کر رہا ہوں جو ایک بیسک میمن تھیوری ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا 80 ارب امپورٹ، 31 ارب کی ایکسپورٹ اور 30 ارب ترسیلات کے بعد 17.50 ارب کا خسارہ برداشت نہیں کر سکتے۔
ان
کا کہنا تھا دو ارب کا امپورٹ روکیں گے تو غلطیاں ہوں گی، درآمد ہونے والی
99 فیصد گاڑیاں فروخت کر دی جاتی ہیں، فروخت شدہ گاڑیوں کی قیمت میں ڈالر
دوبارہ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب
امارات پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کر رہا ہے،
ایکسچینج کمپنیاں روز ڈالر کی بڑی مقدار انٹر بینک میں سرینڈر کر رہی ہیں،
ایکسچینج کمپنیوں کے بغیر پاکستان کو چلانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ
ایکسچینج کمپنیاں معیشت میں اہم کردار کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ہماری
خریدی گئی گیس ملک کو بچا رہی ہے، کورونا میں سستی گیس نہیں خریدی گئی، ہم
نے حکومت میں آکر فیصلہ کیا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے،
پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑے، اللہ کا شکر ہے کہ
آج ہم ڈیفالٹ ہونے سے بچ گئے ہیں۔