کوئٹہ،
جونیئر اساتذہ کی بھوک ہڑتال پندرہویں روز میں داخل، احتجاجی مظاہرین
کاانتباہ، بولے مطالبات منظور نہ ہوئے تو اسمبلی کے سامنے بھی احتجاج کریں
گے
جونیئر
اساتذہ کی جانب سے تقرری کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ کو
پندرہ روز گزر گئے جس کے باعث متعدد اساتذہ کی حالت غیر ہوگئی ہے۔
جونیئر
اساتذہ کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ہے جس
کی وجہ سے وہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
بھوک ہڑتال
پر بیٹھے سینئر نائب صدر جی ٹی آئی ٹی بلوچستان منظور رائی بلوچ کاکہنا
تھا کہ ہمارا مطالبہ سیدھا، صاف اور واضح ہے کہ ہمیں سندھ، پنجاب اور کے پی
کے کی طرح اپ گریڈ کیا جائے کیونکہ آزاد کشمیر اور وفاق بھی یہ عمل کرچکا
ہے لیکن حکومت بلوچستان لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پوری
حکومت بلوچستان سیکریٹری قانون کے ماتحت چل رہی ہے۔
دوسری طرف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں نے بھی اساتذہ کے مطالبات کو جائز قرار دیدیا۔
بھوک
ہڑتالی جونئیر اساتذہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہیں
ہوئے تو وہ دوبارہ اسمبلی کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔