لاہور،
ڈیتھ زون میں بچوں کے خیال نے ہمیشہ ہمت بندھائی، کوہ پیما نائلہ کیانی
کہتی ہیں بلند چوٹیاں سر کرنے کے دوران کئی مرتبہ مشکل حالات کا سامنا کرنا
پڑا
آٹھ
ہزار میٹر سے بلند تین چوٹیاں سرکرکے تاریخ رقم کرنے والی پاکستان کی پہلی
خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے کہا ہے کہ ڈیتھ زون میں بچوں کے خیال نے
ہمیشہ ہمت بندھائی ہے اور اسی ہمت کی وجہ سے وہ مشکل چوٹیاں سر کرنے میں
کامیاب ہو رہی ہیں۔
تاریخ رقم کرنے والی پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی
نے لاہور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ بلند چوٹیاں سر کرنے
کے دوران کئی مرتبہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، ڈیتھ زون میں داخل
ہوگئی، اس دوران خیال آتا تھا کہ مجھے بچوں کو ملنا ہے کیونکہ میں اپنے
بچوں کیلئے رول ماڈل بننا چاہتی تھی اور ان کی وجہ سے مجھے ہمت ہوتی اور
میں ایک سال میں تین آٹھ ہزار سے بلند چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہو گئی
اور تاریخ رقم کر دی۔
نائلہ کیانی نے کہا کہ کوہ پیمائی آسان نہیں ہے،
اس کیلئے پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے اور حکومت کو سپورٹ کرنا چاہیے، مجھے
حکومتی سپورٹ حاصل نہیں رہی ہے اگر حکومت سپورٹ کرے تو ہم بھی نیپال کی
طرح اس کو ایک کامیاب پروفیشن بنا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ نائلہ کیانی 8
ہزار میٹر سے بلند تین چوٹیاں سر کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون کوہ پیما
ہیں۔ انہوں نےحال ہی میں دنیا کی 11 ویں بلند ترین چوٹی گیشر برم ون سر کی
ہے ۔ اس سے قبل نائلہ کیانی گیشر برم ٹو اور کے ٹو بھی سر کر چکی ہیں۔ وہ
جی ون اور جی ٹو سر کرنے والی بھی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔