کوئٹہ
میں کرخسار اور سملی ڈیم ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل، فصلیں تباہ،
نشیبی علاقے زیر آب آگئے، ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے
کوئٹہ
میں مسلسل بارش کے سبب شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں جبکہ لوگوں
کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔شہر میں موسلادھار بارش کے بعد نشیی
علاقے زیر آب آگئے۔ پی ڈی ایم اے سمیت ضلعی حکومت غیر فعال ہے اور لوگ اپنی
مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے پر مجبور ہوگئے۔
موسلا دھار بارشوں
کے سبب کوئٹہ کے علاقے سملی میں واقع ڈیم اور کچلاک کے ساتھ واقع بروری
کرخسار ڈیم ٹوٹ گئے جس کے باعث سیلابی ریلا آبادیوں میں داخل ہوگیا۔
کرخسار ڈیم ٹوٹنے سے ہزارہ ٹاؤن کی آبادی شدید متاثر ہوئی جہاں سے سیلابی
ریلہ گزر رہا ہے، امدادی ٹیمیں ہزارہ ٹاؤن روانہ ہوگئی ہیں۔
اس حوالے سے ایک شہری یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ
بلوچستان کے ضلع قلعہ
عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، دکی اور ہرنائی میں مسلسل طوفانی بارشیں
ہوئیں جس کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ میں دولنگی ڈیم ٹوٹ گیا جب کہ دو اہم
پل اور کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔بارشوں سے متعدد مکانات گر گئے،پشین کا
علاقہ بوستان زیرآب آگیا جبکہ مچھ میں بی بی نانی پل
کےنیچےسےاونچےدرجےکاسیلابی ریلا گزر رہا ہے۔
ایک اور شہری ملک راشد قمبرانی کا کہناتھا کہ
خیال
رہے کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں مزید نو افراد
جاں بحق ہوگئے جس سے صوبے میں مجموعی اموات کی تعداد دو سو پچیس ہوگئیں۔