Aug 25, 2022 01:30 pm
views : 285
Location : Pak-China Friendship Centre
Islamabad- Pak-Iran trade exhibition will promote mutual trade opportunities and investment, says Irani Ambassador
اسلام
آباد، وفاقی دارالحکومت میں پاکستان ایران تین روزہ تجارتی نمائش جاری،
ایرانی سفیر سید محمدع لی حسینی کہتے ہیں پاک ایران تجارتی نمائش باہمی
تجارتی مواقعوں و سرمایہ کاری کو فروغ دے گی
وفاقی
دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کے زیر اہتمام پاک چائنا
فرینڈشپ سینٹر میں ایرانی انوویشن فنڈ اور ایران کی وزارت محنت وسماجی
بہبود کے تعاون سے چوبیس تا چھبیس اگست تک پاکستان ایران تجارتی نمائش جاری
ہے۔تین روزہ تجارتی نمائش پاکستان ایران تجارتی نمائش دونوں ممالک کی بزنس
کمیونٹیز کو قریب لانے اور باہمی سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت
ہوگی۔
اس موقع پر ایران کے سفیر سیّد محمد علی حسینی نے کہا کہ پاکستان
ایران تجارتی نمائش کا مقصد دونوں ممالک میں تجارتی، صنعتی و سرمایہ کاری
کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔اس طرح کی تجارتی و صنعتی نمائش اور
کانفرنسز دونوں ممالک کی بزنس کمیونیٹیز کو قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں
گی۔ ایران سے 33 ایرانی کمپنیاں اس تین روزہ نمائش میں شرکت کر رہی ہیں جن
میں سے 11 نالج بیسڈ کمپنیاں شامل ہیں جو کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور ایجادات
پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نمائش میں ایران کی جانب سے مختلف
شعبوں بشمول خوراک و دودھ، ٹیلی کام، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کارپٹ، کچن
آئٹمز اور سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے
کہا کہ کپڑا، دستکاری، زیورات اور دوسرے کئی شعبوں سے پاکستان کی بھی مختلف
کمپنیاں نمائش میں شرکت کر رہی ہیں۔ حال ہی میں دونوں ممالک میں باہمی
تجارت کے فروغ کے لئے پاکستان و ایران میں بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانا ہے جس سے کئی شعبوں میں باہمی
تعاون بڑھے گا۔
سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران گیس
پائپ لائن پر بھی کام مکمل ہو جائے گا جس سے دونوں ممالک میں توانائی کے
شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں
گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کا علاقائی تجارت اور اقتصادی انضمام میں بہت اہم کردار ہے جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔
سینیٹر
مشاہد حسین نے کہا کہ اس نمائش کے انعقاد سے دونوں ممالک میں گہرے تجارتی و
معاشی روابط پیدا ہوں گے اور اس کے علاقائی تجارت پر بہت اہم اثرات مرتب
ہوں گے۔