کراچی،
طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ٹرینیں تاخیر کا شکار، مسافر رل
گئے، عزیز واقارب کو پریشانی کا سامنا، مسافروں کا سہولیات کی عدم فراہمی
کا شکوہ
ٹرین کے
انتظار میں جب گھنٹوں بیت گئے تو مسافروں اور انتظار کیلئے آئے رشتے داروں
کو اسٹیشن کی بینچوں پر تھک ہار کر لیٹنا ہی پڑا۔ ٹرین آئے گی تب ہی تو
جائے گیلیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ نا تو ٹرین آرہی ہے نہ ہی چین آرہا
ہے۔
ایک مسافر کا کہنا تھا کہ
اندرون ملک سے کراچی آنے والی بیشتر
ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں جن میں خوشحال خان خٹک ایکسپریس، خیبرمیل، بولان
میل، تیزگام ، علامہ اقبال ایکسپریس، قراقرم ، کراچی ایکسپریس اور دیگر کئی
ٹرینیں شامل ہیں۔ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر کی وجہ سے مسافروں کو لینے کیلئے
آئے عزیز و اقارب کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑرہا ہے۔
ایک اور مسافر کا کہنا تھا کہ
دوسری
طرف مسافر ٹرینوں میں سہولیات کی عدم فراہمی کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے
ہیں۔ کچھ نے تو وفاقی وزیر ریلوے کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے
استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔