اسلام
آباد، ریاست چلانا کِھلنڈرے لوگوں کا کام نہیں، وفاقی وزیر سابق وزیراعظم
پر برس پڑے، سعد رفیق کہتے ہیں آئی ایم ایف ایک وقتی سکون ہے، اپنے
زوربازو پر انحصار کرنا ہوگا
وفاقی
وزیر ہوابازی اور ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریاست چلانا کِھلنڈرے
لوگوں کا کام نہیں۔ جب جنگل میں آگ لگ جائے تو درندے بھی اکٹھے ہو جاتے
ہیں۔
پی آئی ڈی اسلام آباد میں مشیر برائے امور کشمیرقمر زمان کائرہ
کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جب ہم پاکستان
کو سری لنکا بننے سے بچانے کے لیے کوشش کر رہے تھے،تب ایک بھارت اور پی ٹی
آئی کے مہربان تھے جو چاہ رہے تھے کہ ہمیں آئی ایم ایف پروگرام نہ ملے۔
انہوں
نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شوکت ترین جیسا پروفیشنل شخص ایسا
کرے گا۔آئی ایم ایف ایک وقتی سکون ہے۔ وزیراعظم نے فلڈ ریلیف کانفرنس کی،
اس میں تمام وزرا کو مدعو کیا گیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پنجاب،
پختونخوا، جی بی اور آزاد کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت سے روکا گیا۔
سعد
رفیق نے کہا کہ دوسروں کو جانور کہنے والے سوچیں وہ خود کیا ہیں۔ سابق
وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بدترین حالات میں ہے،
سیلاب میں ہے اور آپ بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ریاست چلانا کِھلنڈرے
لوگوں کا کام نہیں ہے۔ سیلاب کے موقع پر افواج پاکستان، پی ڈی ایم اے سمیت
سب نے بہترین کام کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم جلد ہی
اتحادیوں کی مدد سے پروگرام دیں گے۔ملنے والی امداد اتنی کافی نہیں کہ
ضرورت پوری ہو سکے۔ہمیں اپنے زور بازو پر انحصار کرنا ہوگا۔کوئٹہ کراچی
نیشنل ریلوے سے کٹ گئے ہیں ۔ نواب شاہ ٹریک پر 15 انچ پانی بہہ رہا ہے۔ سبی
کے قریب ایک ریلوے پل گر گیا ہے۔