کوئٹہ، حالیہ بدترین سیلابی ریلے کی نظرہونے والے سیاحتی مقام ہنہ اوڑک کے متاثرین میں مایوسی پھیلنے لگی، علاقے کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ، علاقہ حکومتی عدم توجہی کا شکار، باغات کو نقصان پہنچنے سے مکینوں کا ذریعہ معاش بند
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے آٹھ کلو میٹر دور واقع سیاحتی مقام ہنہ اوڑک حالیہ تباہ کن سیلاب کی نظر ہوگیا۔ سیلابی ریلے نے پورے علاقے کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا۔سڑکیں، ٹوٹی پھوٹی ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ حالیہ بدترین سیلابی ریلے کی نظرہونے والے علاقے کے عوام باغات کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ وہاں کے زیادہ تر لوگوں کا دارومدار زراعت پر تھا۔
اس حوالے سے قلعہ حاجی گل محمد کے رہائشئ سیف الاسلام کا کہنا تھا کہ
حفاظتی بند نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلے نے پورے علاقے کو نقصان پہنچایا، تین سو گھر، چار اسکول، ایک ہسپتال کو نقصان پہنچا۔ اسکول بند ہونے کی وجہ سے بچے گھر میں تعلیم سے محروم بیٹھے ہیں جبکہ علاقے کے لوگ حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔
ایک اور شہری سیف الرحمٰن کاکڑ کا کہنا تھاکہ
متاثرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ علاقے کے انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیاد پر کام کرنے کے علاوہ علاقے کی بجلی اور گیس کو فوری طور پر بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔