Sep 16, 2022 02:14 pm
views : 266
Location : domestic place
Flour Crisis started in Karachi, Price of flour per kg is feared to reach 150 rupees
کراچی
میں آٹا بحران سر اٹھانے لگا، فی کلو قیمت ایک سو پچاس روپے تک پہنچنے کا
خدشہ،سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث گندم کی پیداوار میں واضح کمی اور کئی
علاقوں کے گوداموں میں موجود گندم پانی لگنے کے باعث ضائع ہوگئی
سندھ میں
گندم کی ذخیرہ اندوزی کے سبب شہر قائد میں آٹےکا بحران سر اٹھانے
لگا ہے، مالکان نے فی کلو آٹے کی قیمت ایک سو پچاس روپے سے تجاوز کرنے کا
خدشہ بھی ظاہر کردیا ہے۔
گندم کے فی من نرخ چار ہزار روپے مقرر کئے
جانے کے باوجود تاجر اوپن مارکیٹ سے بلیک میں گندم خریدنے پر مجبور
ہوگئے۔فلور ملوں سے آٹے کے ٹرک کے ٹرک متاثرین کیلئے خریدے جارہے ہیں، جس
کی وجہ سے شہر میں آٹے کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
مقامی مارکیٹ میں آٹے کی
قیمت میں فی کلو دس روپے کا اضافہ ہوگیا۔دس روپے اضافے کے بعد چکی کا
آٹاایک سو پندرہ روپے سے بڑھ کر ایک سو پچیس روپے فی کلو فروخت کیا جارہا
ہے جبکہ چھوٹی چکیوں پر آٹا ایک سو پینتیس روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔
ایک شہری کا کہنا تھاکہ
آٹا
مہنگا ہونے کی وجہ سے شہر قائد میں تندور کی روٹی کی قیمت بیس جبکہ چپاتی
پندرہ روپے کی ہوگئی ہے جبکہ بڑے تندوروں اور شیرمال ہاﺅس پر روٹی پچیس
روپے میں فروخت ہورہی ہے اسی طرح بڑے ریسٹورنٹس پر چالیس روپے میں نان
فروخت ہونے لگا ہے۔
ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ
خیال رہے کہ سندھ
حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس دو ہزار دو سو روپے سے بڑھاکر چار ہزار روپے
کلو مقرر کردی ہے جبکہ سندھ میں سرکاری گندم کی اجراء یکم اکتوبر سے کیا
جائے گا۔