اسلام آباد، روس یوکرین تنازعہ کے باعث پاکستان میں مزید مہنگائی کے ساتھ صورتحال سنگین ہوسکتی ہے، مقررین نے متنبہ کردیا، کہا پاکستان کو خوراک کیلئے اور دوسرے توانائی کے وسائل دونوں کی ضرورت ہے
اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ ریزولوشن نے "روس-یوکرین کرائسز اینڈ ریجنل سیکیورٹی اپریٹس" کے عنوان سے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں نامور مقررین ایچ او ڈی گورننس اینڈ پبلک پالیسی نسٹ، ڈاکٹر رفعت حسین،ایچ او ڈی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز شبانہ فیاض، فیکلٹی ڈیپارٹمنٹ آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز بحریہ یونیورسٹی اسلام آبادپروفیسر، ڈاکٹر اظہر احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیگل فورم برائے کشمیر ناصر قادری اور دفاعی تجزیہ کارشاہد رضانے شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین نے روس یوکرین تنازعہ کے تاریخی اور جغرافیائی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چین روس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا مقصد امریکہ کی زیر قیادت بالادستی کے نظام کو کم کرنا ہے جو چین کی جانب سے کثیر قطبی عالمی نظام کو یقینی بنانے کے حوالے سے روس کی مدد کرنے کیلئے تیار ہونے کے بعد کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہ امر بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین نے بھی ماسکو کو فوجی مدد فراہم کرنے سے خود کو باز رکھا ہے۔ روس پر پابندیوں نے بیجنگ کو وسط ایشیائی ریاستوں میں قدم جمانے کے قابل بنایا ہے اور چین بیک وقت روس کی جارحیت میں مدد کر سکتا ہے اور عالمی نظام کو بدلنے کیلئے عالمی اقتصادی وژن کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر اظہر کا کہنا تھا کہ ایک ہزار بین الاقوامی کمپنیوں نے روس چھوڑ دیا اور روسی معیشت پندرہ فیصد گراوٹ کا شکار ہے تاہم اگر مغرب نے بیجنگ اور ماسکو دونوں کو الگ تھلگ کرنے کی طرف دیکھا تو اسے بہت مایوسی ہوئی۔پاکستان کو بھی اس تنازع کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس نے تنازعات میں اعتدال پسند پوزیشن برقرار رکھی ہے کیونکہ
ڈاکٹر شبانہ فیاض نے روس یوکرین جنگ کے حقیقت پسندانہ پہلو کے بارے میں بات کی اور کہا کہ