Sep 28, 2022 02:45 pm
views : 266
Location : domestic place
Karachi- GIA Foundation Executive Director Bindya Rana Exclusive Interview over Transgenders Bill
کراچی، ٹرانسجینڈر بل کی آڑ میں ایل جی بی ٹی کو فروغ دیا جارہا، خواجہ کہتے ہیں بل پر واویلا مچانا سمجھ سے بالاتر ہے، بل کی منظوری کے وقت کیا سب سورہے تھے؟
خواجہ سراؤں نے ٹرانسجینڈر بل پر واویلا مچانے والوں کو کھلا چیلنج دیدیا۔
جیا فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بندیا رانا نے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسجینڈر بل دوہزار اٹھارہ میں پاس ہوا تھا، میں ان لوگوں سے پوچھتی ہوں چار سال کس نیند میں رہے، اس وقت بھی ٹرانسجینڈر بل آئین پاکستان سامنے رکھ کر بنایا گیا جو کثرت رائے سے منظور ہوا۔
بندیا رانا نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت پسندی کی طرف بڑھا جانا چاہئے کیونکہ بل کی شق میں یہ نہیں ہے کہ ایکس کارڈ کا حامل کہیں شادی کرسکتا ہے۔خوامخواہ کا واویلا مچایا جارہا ہے، کہا جارہا ہے کہ خواجہ سراؤں کو میڈیکل بورڈ کے بعد آئی ڈی کارڈ کیلئے گزرنا ہوگا اوراگر ایسا کیا جائے گا تو پھر پھر سب کا میڈیکل ہونا چاہئے، میدان سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہئے، کیا معلوم ہماری تعداد دگنی ہوجائے۔
بندیا رانا نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو پہلے بہت سے مسائل کا سامنا ہے، خواجہ سراؤں کو ہیلتھ کی سہولیات نہیں مل رہی، نوکریوں کا کوٹہ نہیں مل رہا، تعلیم نہیں مل رہی جبکہ خواجہ سراؤں کے گاجر مولی کی طرح قتل ہونے پر کوئی سامنے نہیں آتا۔خواجہ سراؤں پر تشدد پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔
انہوں نے کہا کہ دین اسلام نفرت کا درس نہیں دیتا، امن، محبت، بھائی چارے کا درس دیتا ہے، اقلیت کو ریزریو سیٹ دی جاتی ہیں، خواتین کو ریزریو سیٹ ملتی ہیں ہمیں کیوں نہیں دی جاتیں۔
بندیا رانا نے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ ٹرانسجینڈر بل کی آڑ میں ایل جی بی ٹی کو فروغ دیا جارہا ہے۔