Sep 30, 2022 12:15 pm
views : 342
Location : domestic place
Islamabad- The Relief needs are high despite the use of available resources, says Sherry Rehman
اسلام آباد، سیلاب متاثرین کیلئے فنڈز کی کمی، حکومت ماحولیاتی تبدیلی کیلئے مختص فنڈ استعمال کرنے پر مجبور، شیری رحمٰن کہتی ہیں امدادی ضروریات دستیاب وسائل کے استعمال کے باوجود بہت زیادہ ہیں
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والے صورتحال کی وجہ سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے سلسلے میں فنڈز کی شدید کمی کے باعث حکومت سیلاب زدہ لوگوں کی فوری امدادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مختص فنڈز استعمال کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے بہت سارے وہ علاقے جو سطح سمندر سے نیچے واقع ہیں وہاں سیلاب کا پانی تاحال موجود ہے جب کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے اور انہیں پناہ گاہیں فراہم کرنے کے لیے فنڈز اور وسائل کی اب بھی کمی ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ہزاروں لوگ اب بھی پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں اور خدشات ہیں کہ لوگوں کو پوری سردیاںو اس طرح گزارنی پڑھ سکتی ہیں، ملک کو تاریخ کی بد ترین قدرتی آفت سے متاثرہ سوا تین کروڑ لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے مزید بہت زیادہ وسائل درکار ہوں گے۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ اس قدرتی آفت کے باعث پاکستان کے معاشی نظام کو شدید جھٹکا لگا ہے، ہمیں قرضوں کی ادائیگی سے فوری پر کچھ ریلیف کی ضرورت ہے، ہمارا قرض متاثرہ تقریباً آدھے ملک کی تعمیر نو کے لیے ہمارے آپشن کو محدود کر رہا ہے جب کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مختص فنڈز کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا اگر پاکستان ایک فیصد سے بھی کم ایسے عوامل و عناصر کا اخراج کرتا ہے جو کہ گلوبل وارمنگ کا سبب بنتے ہیں جس کے نتیجے میں اس طرح کی موسمیاتی آفات دنیا میں تباہی مچاتی ہیں تو پھر اس کو ملنے والی امداد کو آفتی امداد یا بھیک کیوں قرار جاتا ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔