عمران خان سیاسی مخالف ہیں
دشمن نہیں، حملہ مذہبی انتہاپسندی کا واقعہ ہے: رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے
کہ عمران خان پر حملے کی تحقیقات پنجاب حکومت کو کرنی ہیں، اگر ماحول اچھا
ہو تو عمران خان سے تعزیت کرنے جاسکتے ہیں
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری ہم پر عائد کری ہے، اس معاملے کی تحقیقات پنجاب حکومت کو کرنی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان سیاسی مخالف ہیں دشمن نہیں،حملہ انتہائی قابل مذمت ہے، اسدعمر نے بغیرتحقیق الزام لگایا، معاشرے میں تقسیم کا عمل گہرا کردیا گیا، ایسارویہ جمہوریت کیلئے بہت نقصان دہ ہے، پی ٹی آئی مارچ پر حملہ مذہبی انتہاپسندی کا واقعہ ہے، پی ٹی آئی کا رویہ کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ بہت خوش ہے اس وقت، مختلف قسم کے الزامات آپ لگا رہے ہیں جو آپ کے منہ میں آ رہے ہیں، آپ اپنے سیاسی فائدے کے لیے یہ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، عمران خان کو سیکیورٹی دینا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ماحول اچھا ہو تو عمران خان سے تعزیت کرنے جاسکتے ہیں لیکن کل جس طرح سے انہوں نے ہم پر الزام عائد کیا ہے اس موقع پر جانا مناسب نہیں، اس بارے میں تحقیق ہونی چاہیے اور تحقیق پنجاب حکومت کو کرنی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ویڈیو لیک ہونے میں پولیس کی اپنی غفلت ہے، افسوس ناک بات یہ ہے کہ تھانہ معطل ہونے کے بعد بھی دوسری ویڈیو وائرل ہوئی، جب اس ملزم کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو آپ حیران رہ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے تو کل بھی کہا تھا کہ کس سے ثالثی کریں ؟ ہمیں آگے سے گالیاں پڑتی ہیں، میں کوئی اسٹیٹمنٹ نہیں دینا چاہتا کیوں کہ معاملے کی تحقیقات چل رہی ہیں۔
رانا ثنا نے کہا کہ ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، اس وقت جو پی ٹی آئی کا رویہ تھا وہ آپ کے سامنے تھا، جو دوسری ویڈیو دیکھی ہے اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، اس ویڈیو میں ملزم باقاعدہ بحث کر رہا ہے، اس ملزم سے جو موبائل فون برآمد ہوا ہے اس میں سے بھی چیزیں برآمد ہوئی ہیں، میں عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا سارا شک دور ہوجائے گا۔