سیہون میں مسافر وین کو
حادثہ، بچوں اور خواتین سمیت 20 افراد جاں بحق ، سیہون شریف حادثہ کس کی
غفلت سے پیش آیا؟ 24گھنٹے میں انکوائری رپورٹ طلب ، وزیرمواصلات مولانا
اسعدمحمود نے سیہون شریف حادثے کا نوٹس لے لیا
خیرپور
سے دادو جانے والی وین سیہون ٹول پلازہ کے قریب کھڈے میں گرگئی۔ حادثے میں
20 خواتین، بچے اور بچیاں جاں بحق ہوگئیں جبکہ 13 افراد زخمی ہیں۔
تفصیلات
کے مطابق انڈس ہائی وے پر سیلابی پانی کے اخراج کے لیے اتنظامیہ کی جانب
سے کٹ لگائے تھے، جس کو 2 ماہ بعد بھی پُر نہیں کیا گیا، اسی باعث حادثہ
پیش آیا۔
مسافر وین میں سوار افراد خیرپور میرس کے علاقے داؤد ہالی
پوٹا سے درگاہ لعل شہباز قلندر جارہے تھے کہ انڈس ہائی وے پر ڈرائیور کو کٹ
نظر نہ آیا۔
حادثے کے بعد ریسکیو، انتظامیہ اور پولیس اہلکار امداد کے
لیے پہنچ گئے، متاثرہ افراد کو نکال کر عبداللّٰہ انسٹیٹیوٹ اسپتال سیہون
منتقل کیا گیا۔
اسپتال ذرائع نے تصدیق کی کہ مرنے والوں میں آٹھ خواتین،
چھ لڑکیاں اور چھ لڑکے شامل ہیں۔ لاشوں کی شناخت ہوگئی، جس کے مطابق مرنے
والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
حادثے کے بعد محکمہ صحت سندھ اور مقامی انتظامیہ نے سیہون انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز میں ایمرجنسی نافذ کردی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق جائے وقوعہ پر ریسکو کا کام مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ زخمیوں اور لاشوں کو عبداللہ شاہ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ کا سیہون اور بھان کے درمیان مسافر وین کے حادثے کا
نوٹس لیتے ہوئے جامشورو پولیس کو جائے وقوع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کرنے
کی ہدایات دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ کوئی جانی نقصان نہ
ہو، زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد دی جائے۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر
اطلاعات شرجیل انعام میمن کا وین حادثہ میں قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار
افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعہ کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کرلی جبکہ ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔