گاڑی تھانے لے جانے پر
تکرار، ڈیفنس میں شہری کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ، دو اہلکار
مبینہ ملزم کی گاڑی کو تھانے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، تلخ کلامی کے بعد
ملزم نے گولی چلا دی
کراچی
میں گزشتہ شب پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے شہید کرنے والا ملزم کار میں
لڑکی کو اغوا کرکے لے جا رہا تھا۔ شاہین فورس کے اہلکاروں نے کار کو روکا
تھا۔پولیس اہلکاروں نے واقعے کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ ملزم کسی
لڑکی کو زبردستی ساتھ بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ملزم نے فرار ہونے کی
کوشش کی تو اہلکاروں نے اسکا پیچھا کرکے اسے روک لیا اور تھانے لے جانے لگے
تو ملزم نے فائرنگ کر دی اور کار میں بیٹھ کر فرار ہو گیا۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 میں فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔
شہید
پولیس اہلکار کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ مقتول اہلکار پر قریب سے
فائر کیا گیا۔ گولی ایک ہی لگی جو سر میں لگی اور جان لیوا ثابت ہوئی۔
ایس
ایس پی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم
کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ اس کی گاڑی تحویل میں لے لی گئی ہے جب کہ واردات
میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
اسد رضا نے بتایا
کہ کار میں اہلکار عبدالرحمٰن ملزم سے ہتھیار حوالے کرنے کا کہتا رہا۔ اسی
دوران ملزم نے فائر کردیا۔ عبدالرحمٰن نے بھی زخمی ہونے کے بعد ملزم پر
فائر کیا جو گاڑی پر لگا۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ملزم حال ہی میں سوئیڈن سے تعلیم حاصل کرکے لوٹا ہے اور اس کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکار عبدالرحمٰن کے قتل میں ملوث ملزم خرم نثار سابق ڈپٹی کمشنر کا بیٹا ہے۔
ڈی
آئی جی ساؤتھ عرفان علی بلوچ کے مطابق ملزم خرم نثار کا آبائی گھر
ڈیفنس فیز 5 میں جائے وقوع کے قریب واقع ہے، پولیس نے ملزم خرم نثار کے گھر
چھاپہ مار کر اسلحہ و دستاویزات برآمد کر لیں اور چوکیدار کو حراست میں
لے لیا ہے۔
مقتول پولیس اہلکار کے بھائی حضرت رحمٰن کے مطابق مقتول عبد
الرحمٰن کا نکاح ہوچکا تھا، اس کی دسمبر میں شادی طے تھی، ہمارا بھائی
دورانِ ڈیوٹی فائرنگ سے شہید ہوا۔