Nov 26, 2022 02:35 pm
views : 397
Location : national press club
Islamabad- Govt Asked to Allow Import of Sugar on Permanent Basis for Price Stability
پرائم انسٹیٹیوٹ کاچینی
مارکیٹ میں قیمتوں پر کنٹرول اور برآمدی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ ،
پرائم انسٹیٹیوٹ کی جانب سے رپورٹ جاری ، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال
چینی کی قلت اور اگلے سیزن کے لیے گنے کی بوائی میں تاخیر کا خدشہ ہے
پرائم
انسٹیٹیوٹ کی جانب سےنئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شوگرز ملز کی جانب سے
کارٹیلائزیشن کو روکنے اور ملکی مارکیٹ میں استحکام کیلئے ریفائنڈ چینی کی
درآمد کی اجازت دی جائے اور شوگر ملز کو گنے کی فصل کی فوری ادائیگی کیلئے
حکومتی دباؤبڑھایا جائے۔
پاکستان کے شوگر سیکٹر میں ریاست مارکیٹ گٹھ
جوڑ کی اصلاح: تجزیہ، سفارشات اور روڈ میپ" نے سفارش پیش کی ہے کہ کسانوں
اور صنعت دونوں کو مراعات اور رلیف فراہم کرنے کے لیے چینی کی قیمتوں کو
کنٹرول کرنے اور برآمد کرنے پر موجودہ پابندیاں ختم کی جائیں۔ رپورٹ میں
اہم اشاریوں، حکومتی پالیسیوں اور تجارتی امکانات کے رجحانات کا تجزیہ کرکے
پاکستان میں چینی کے شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ سیکٹر
کی بہتر کارکردگی کے لیے اصلاحات کے لیے روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔
نیشنل
پریس کلب اسلام آباد میں رپوٹ پیش کرتے ہوئے پرائم انسٹیٹیوٹ کے طلحہٰ
عادل اور علی سلمان کا کہنا تھا کہ چینی کے شعبے کی سپلائی چین کے ہر پہلو:
کاشتکاری، گنے کی قیمتوں کا تعین، گنے کی کرشنگ، چینی کی خوردہ قیمت اور
چینی کی تجارت براہ راست یا بالواسطہ طور پر حکومت کے زیر اثر ہے۔ حکومت نے
قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے انتظامی کنٹرول نافذ کیے ہیں لیکن چینی
مارکیٹ میں مختلف قیمتوں پر فروخت ہوتی ہے اس طرح حکومتی اقدام بے سود ہو
جاتا ہے۔ جبکہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان حکومت کو قیمتوں کے کنٹرول کا
استعمال نہ کرنے اور سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی سفارش کرتا رہا ہے۔
رپورٹ
میں کہا گیا ہے کہ حکومت چینی کی تجارت کو کنٹرول کرتی ہے۔ سرپلس کے وقت
چینی کی برآمد پر پابندی سے ملوں کے لیے اسٹاک فروخت کرنا اور کسانوں کو
ادائیگیاں کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح، پورے شعبے کو نقصانات کا سامنا
ہے۔ اس وقت شوگر ملوں کے پاس تقریباً 1.3 ملین ٹن چینی کا اضافی ذخیرہ ہے
جسے ملکی سپلائی پر کوئی اثر پڑے بغیر 1 بلین ڈالر کمانے کے لیے آسانی سے
برآمد کیا جا سکتا ہے کیونکہ نئی فصل تیار ہے۔ بدقسمتی سے حکومت نے چینی کی
برآمد کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اسی وجہ سے ملوں نے کسانوں سے
گنے خریدنے اور کرشنگ شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر یہ مسئلہ برقرار
رہا تو اگلے سال چینی کی قلت اور اگلے سیزن کے لیے گنے کی بوائی میں تاخیر
ہونے والی ہے۔