Nov 29, 2022 05:00 pm
views : 373
Location : Domestic place
Islamabad- COMSTECH, Embassy of Indonesia organize seminar on herbal medicine
جڑی بوٹیوں اور روایتی
ادویات کے استعمال انڈونیشینسفارتخانے اورکامسٹیک کے اشتراک سے سیمینار ،
انڈونیشین سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشیا جڑی بوٹیوں کی نعمت
سے مالا مال ہیں، دونوں ممالک بڑے پلیٹ فارمز بنا کر ان سے استفادہ کرسکتے
ہیں
انڈونیشیا
کے سفارتخانے اورکامسٹیک کے اشتراک سے کامسٹیک سیکرٹریٹ میں جڑی بوٹیوں
اور روایتی ادویات کے پائیدار استعمال اور فوائد بارے بین الاقوامی سیمینار
کا انعقاد کیا گیا جس میں ایران، انڈونیشیا اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی
سینٹر برائے کیمیکل اور بیالوجیکل سائنسز کراچی یونیورسٹی کے پروفسیرز اور
ماہرین کے علاوہ پاکستان کی مختلف یونیوسٹیوں سے آنے والے طلبہ اور طالبات
نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطابق کرتے ہوئے پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر
ایڈم ایم ٹوگیو نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا جڑی بوٹیوں کی نعمت سے
مالا مال ہیں، دونوں ممالک بڑے پلیٹ فارمز بنا کر ان سے استفادہ کرسکتے
ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر 80 فیصد افراد ہربل دوائیوں کا استعمال کرتے
ہیں، ہمیں ان ادویات کی ترقی کے لئے کوششیں کرنی چاہئے، ہربل اور روایتی
ادویات کے استعمال کے فوائد اور لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے سوشل
میڈیا کا بھی استعمال کیا جانا چاہئے۔
انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ
پاکستان اور انڈونیشیا روایتی ادویات کی ترقی کے لئے ملکر کام کرسکتے ہیں،
اربوں ڈالر کی روایتی اور ہربل دوائیوں کی صنعت کو تحقیق اور ترقی دے کر
فروغ دیا جاسکتا ہے، ہربل ادویات کے پائیدار استعمال کے لیے ایک دوسرے کے
تجربے سے استفادہ کی ضرورت ہے۔
انڈونیشین سفیر کا کہنا تھا کہ کورونا
وائرس کے وباکے دوران اور اس کے بعد علاج کے روایتی طریقوں اور متبادل
ادویات کے استعمال اور اعتماد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کورونا
وائرس کی عالمگیر وبا کے بعد بڑی دوا ساز کمپنیوں نے روایتی دوائیوں اور
جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ دوائیوں کی صنعت میں نہ صرف دلچسپی ظاہر کی بلکہ
لوگوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب بھی کیا ہے۔
انہوں نے ہربل ادویات کی
اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دونوں ممالک کو اقتصادی فوائد بھی
حاصل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے روایتی علم کو تسلیم کرنے کے
علاوہ اس کو نصاب میں بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
بین لااقوامی سیمینار
میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش، جبوتی، مصر، آذربائیجان، گبون، سوڈان، نائجیریا
، مراکش، ایران، یوگنڈا، پاکستان اور ملائشیا سے 400 طلبہ و طالبات،
محققین اور ادویات سازی سے کی صنعت سے وابستہ ماہرین شرکت کررہے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں انڈونیشیا سے آئے 14 طلبا سمیت مختلف ممالک کے سفیروں
اور تدریسی و تحقیقی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔