Dec 02, 2022 12:46 pm
views : 354
Location : Interior ministry
Islamabad- TTP terror activities should be concerning for Afghan Taliban: Rana
Sanaullah
ٹی ٹی پی کا کوئٹہ حملے کی
ذمہ داری قبول کرنا لمحہ فکریہ ہے، وزیر داخلہکا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی
پی کا دہشتگردی میں ملوث ہونا خطے کیلئے خطرہ ہے ، اسمبلیاں توڑنے کا
پروگرام بنایا ہے تو 20 دسمبر کا انتظار کیوں
وزیر
داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کا کوئٹہ حملے کی ذمہ داری قبول
کرنا لمحہ فکریہ ہے، ٹی ٹی پی سے کافی مذاکرات ہوئے لیکن اگر ایک دھڑا
واپسی کیلیے تیار ہو تو دوسرا دھڑا حملے شروع کردیتا ہے۔
اسلام آباد
میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگرکالعدم
تنظیم ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث پائی
جائے اور حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرے تو یہ خطرناک چیز ہے اور اس حوالے
سے پاکستان کی حکومت اقدامات کررہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے
حوالے سے وزیراعظم کی سربراہی میں اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی
عدم شرکت قابل افسوس ہے، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو چاہیے کہ دہشت
گردی میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے اقدامات کرے، وفاق صوبائی حکومتوں کی
ہر طرح سے مدد اور معاونت فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان
میں ہونے والا حملہ قابل مذمت ہے، ٹی ٹی پی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث
ہے، مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے وفاقی حکومت معاملات اپنے
ہاتھ میں لے صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ مسائل کے حل کیلئے موثر اقدامات
کریں ۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ملک کو عدم استحکام کی طرف
لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، عمران خان نے توشہ خانے سے گھڑیاں چوری کیں اور
باہر ملک میں فروخت کردیں، عمران خان نے کرپشن کی گھٹیا ترین روایت قائم
کی، عمران خان کو 26 نومبر کو راولپنڈی میں تاریخی ناکامی ہوئی، عمران خان
نے اسلام آباد چڑھائی کا دعویٰ کیا لیکن ہمت نہیں ہوئی۔
وزیر داخلہ نے
کہا کہ عمران خان صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے کی بات کرتا ہے پھر سینیٹ سے
بھی استعفے دے اور صدر بھی مستعفی ہوں، اب پی ٹی آئی کی طرف سے 20 دسمبر کو
اسمبلیاں توڑنے کی بات سامنے آئی ہے، بیس دن کی تاخیر کیوں تاخیر کی جارہی
ہے؟ اس شخص کی پالیسی صرف اور صرف ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانا ہے
کیوں کہ اسمبلیاں توڑنے کا عمل انتہائی غیر سیاسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ
ارشد شریف کے قتل کے لیے حکومتی کمیشن پر ان کے اہل خانہ نے اعتماد نہیں
کیا، حکومت نے سپریم کورٹ کو ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن
بنانے کی درخواست کردی ہے، امید ہے جلد ہی سپریم کورٹ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن
بنا دے گی۔