Dec 05, 2022 01:03 am
views : 351
Location : national press club
Islamabad- Release of poultry feed shipment demanded
سویا بین کی عدم دستیابی ، مرغی اور انڈے کی پیداوار ختم ہونے کا خدشہ
پاکستان
پولٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری محمد اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان میں
سویا بین اور کینولا کی شد ید قلت ہے جو کہ پولٹری فیڈ کا بنیادی پروٹین
جزو ہے،اس وقت ملک میں پولٹری فیڈ ملوں کے پاس سویا بین اور کینولا کا
اسٹاک تقریباً صفر ہو چکا ہے۔
نیشنل پر یس کلب اسلام آباد میں پر یس
کانفر نس کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سویا بین اور کینولا کھانوں
کی عدم دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مذکورہ دونوں فصلوں کے جہازوں کو
پورٹ قاسم سے فوری طور پر ریلیز نہیں کیا جاتا تو آنے والے دنوں میں عوام
کو مرغی اور انڈے کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چوہدری محمد
اشرف نے کہا اگر پورٹ قاسم پر پھنسے ہوئے سویابین اور کینولا کے بحری
جہازوں کو فوری طور پر نہ چھوڑا گیا تو اس سے ملک میں پولٹری کے ساتھ ساتھ
پوری لائیو سٹاک اور ڈیری انڈسٹری بھی تباہ ہو جائے گی کیونکہ صنعتوں کے
لیے جانور بھی سویابین اور کینولا کو اہم اجزاء کے طور پر استعمال کرتے
ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے مطالبات
کے حق میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا
مظاہرین
کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے سویابین اور کینولا کے بحری جہاز جلد ریلیزنہ
کیے تو پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کا کام ٹھپ اور عوام پروٹین کے سستے
ترین ذرائع سے بھی محروم ہو جائیں گے جو انہیں چکن اور انڈوں کی شکل میں
دستیاب ہے، پولٹری انڈسٹری کے خاتمے کی صورت میں پولٹری سپلائی چین کی
بحالی کے لیے نہ صرف اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی بلکہ چھاتی
کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ سال کا وقت درکار ہوگا۔
انکا
کہنا تھا کہ سویا بین اور کینولا کھانوں کا کوئی متبادل نہیں، انھوں نے
کہا اگر پولٹری انڈسٹری کا بحران جاری رہا تو اس سے مکئی کی فصل اور
کاشتکار بھی برُی طرح متاثر ہوں گے کیونکہ پولٹری فیڈ میں 50 فیصد مکئی
استعمال ہوتی ہے،اس لیے ہم حکو مت پاکستان اور وزارت فوڈ سیکیورٹی سے اپیل
کر تے ہیں کہ وہ سویابین اور کینولا کے پھنسے ہوئے جہازوں کو فوری طور پر
ریلیز کریں بصورت دیگر پاکستان پولٹری انڈسٹری اور پولٹری فارمرزاپنے
مزدوروں اور ملازمین کے ہمراہ ملک بھر میں احتجاج کر نے پر مجبور ہو جا ئیں
گے۔