Dec 07, 2022 12:53 pm
views : 380
Location : Domestic place
Islamabad- Regional countries should work together to achieve common goals: Ahsan Iqbal
عوام کی ترقی و خوشحالی
کیلئے مشترکہ ایجنڈے پر کام کی ضرورت ہے ، احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سارک
ممالک میں موسمیاتی تبدیلیاں روس اور یوکرین کی جنگ سے زیادہ خطرناک ہیں ،
سماجی تحفظ کے پروگراموں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے
وفاقی
وزیر منصوبہ بندی ، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر ڈاکٹر احسن
اقبال نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر ریلیف دینے کی ضرورت
ہے،حکومت نے غریب ترین اضلاع کیلئے 40 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، وزارت
ترقی و منصوبہ بندی میں ایس ڈی جیز یونٹ قائم کیا گیا ہے، پاکستان میں
سیلاب سے ہونے والے نقصانات46.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، سیلاب کے باعث غربت
میں 3.7 فیصد سے 4 فیصد اضافہ ہوا، 84 لاکھ سے 91 لاکھ افراد غربت کا شکار
ہوئے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی متاثر ہوئی، 25 غریب ترین اضلاع
میں سے بھی 19 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے،
فرینڈز آف پاکستان کانفرنس 10
جنوری کو منعقد کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ادارہ
برائے پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ
پاکستان کو سیلاب کے بعد کئی چیلنج درپیش ہیں، تمام سارک ملکوں کو بہتر
معیار زندگی کے چیلنجز کا سامنا ہے، سارک ملکوں میں موسمیاتی تبدیلیاں روس
اور یوکرین کی جنگ سے زیادہ خطرناک ہیں،
احسن اقبال نے کہا کہ معاشی بحالی ایک طویل مدتی ایجنڈا ہے، خطے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشترکہ ایجنڈے پر کام کی ضرورت ہے۔
انہوں
نے کہا کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور توازن ادائیگی کے بحران کا سامنا
ہے، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں پر ریلیف دینے کی ضرورت ہے، حکومت نے غریب
ترین اضلاع کیلئے 40 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، وزارت ترقی و منصوبہ
بندی میں ایس ڈی جیز یونٹ قائم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ
پاکستان موسمیاتی 6کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، سیلاب کی وجہ سے
لاکھوں ورکرز بے روزگار ہو چکے ہیں، سماجی تحفظ کے پروگراموں پر زیادہ توجہ
دینے کی ضرورت ہے، گرین ہائوس گیسز میں خطے کا حصہ بہت کم ہے۔
انہوں نے
کہا کہ جنوبی ایشیاء دنیا کا ایک پسماندہ خطہ ہے، 6 سال سے ہم سارک سمٹ کے
انعقاد کا فیصلہ ہی نہیں، ہمیں آپس میں جنگ کی بجائے غربت، بے روزگاری
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے۔