فیڈ کی قلت ،مرغی ،انڈوں کی
سپلائی بند ہوسکتی،پولٹری مالکان کا کہنا ہے کہ پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے
زائد صنعت اس وقت بند ہوچکی ہے ، ملک میں غذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ
جائے گا
پولٹری مالکان نے فیڈ کی قلت کے باعث ملک بھر میں ایک ماہ کے اندر مرغیوں اور انڈوں کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پولٹری
مالکان کا کہنا تھا کہ سویابین اور کنولا پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے
والے اہم اجزا ہیں،اس وقت پورٹ پر 6 لاکھ ٹن سے زائد سویابین موجود ہے، جو
کلیئر نہیں کیا جارہا جبکہ پولٹری مالکان نے سویابین کی درآمد کے سلسلے
میں درآمدکنندگان کو 44کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں بھی کردی ہیں۔
پاکستان
پولٹری ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین چوہدری اشرف،سابق چیئرمین غلام
خالق، سندھ بلوچستان زون کے چیئرمین سلیم بلوچ اور دیگر نے گزشتہ روز کراچی
پریس کلب میں ہنگامی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کراچی پورٹ پر رکے ہوئے
سویابین کنٹینرز کی کلیئرنس نہ ہونے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
وزارت
غذائی تحفظ اور دیگر وزارتوں کے سویا بین کے درآمدکنندگان سے جو بھی
معاملات ہیں، انہیںفوری طور پر طے کیا جائے اور بندرگاہ پر موجود سویابین
کی کلیئرنس کے احکامات جار ی کئے جائیں تاکہ ملک بھر میں پولٹری صنعت کو
فوری طور پر فیڈ کی فراہمی بحال کی جاسکے۔
اس وقت ملک بھر میں پولٹری
مالکان یومیہ 38 لاکھ مرغیاں اور ساڑھے تین کروڑ انڈے فراہم کررہے ہیں، اگر
پولٹری کی صنعت کیلئے فوری طور پر فیڈ کی فراہمی کا معاملہ طے نہ کیا گیا
تو ایک ماہ کے اندر ملک بھر میں مرغی اور انڈوںکی سپلائی بند ہونے کا خدشہ
ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے زائد صنعت اس وقت بند
ہوچکی ہے اور اگر یہ صنعت مکمل طور پر بند ہوگئی تو مجموعی طور پر نہ
صرف25لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ملک میں غذائی عدم تحفظ
کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔
اس وقت ملک بھر میں پولٹری مالکان یومیہ
38لاکھ مرغیاں اور ساڑھے تین کروڑ انڈے فراہم کررہے ہیں،اگر پولٹری کی صنعت
کیلئے فوری طور پر فیڈ کی فراہمی کا معاملہ حل نہ کیا گیا تو ایک ماہ کے
اندر اندر ملک بھر میں مرغی اور انڈوںکی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ہے
،پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے زائد صنعت اس وقت بند ہوچکی ہے اور اگر یہ صنعت
مکمل طور پر بند ہوئی تو مجموعی طور پرنہ صرف25لاکھ کے قریب افراد بے
روزگار ہوجائینگے بلکہ ملک میںغذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ جائیگا