Dec 16, 2022 08:50 pm
views : 344
Location : Different places
Islamabad- Eight years and still awaiting justice': Parents of APS martyrs march in Peshawar , 'Nation pays tribute to APS martyrs', says PM Shehbaz
پاکستانی تاریخ کا کربناک
دن، سانحہ اے پی ایس پشاور کو آٹھ سال بیت گئے ، وزیرِ اعظم کاکہنا ہے کہ
برسوں بعد بھی غم ہے کہ بھلایا نہیں جاتا ، پاکستانی قوم اپنے شہیدوں کی
قربانیاں کبھی فراموش نہیں کرے گی
سانحہ
آرمی پبلک اسکول پشاور کے دردناک سانحے کو گزرے 8 برس بیت گئے ، گولہ بارود
اور خودکش جیکٹوں سے لیس درندہ صفت حملہ آوروں نے بچوں اور اساتذہ سمیت
ایک سو انچاس افراد کو شہید کیا، قوم دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے آج بھی
پرعزم ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ اے پی ایس کے 8 سال مکمل ہونے
پر اپنے پیغام میں کہا کہ 16 دسمبردہشت گردی کے خلاف پورے پاکستان کے ایک
آواز ہونے کا دن ہے، دنیاکیلئےپیغام ہےکہ پاکستان نےدہشت گردی کے خاتمے کے
لئے عظیم قربانیاں دیں۔
سانحۂ اے پی ایس پشاور کے حوالے سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ برسوں بعد بھی غم ہے کہ بھلایا نہیں جاتا۔
وزیرِ
اعظم شہباز شریف نے 16 دسمبر کے سانحۂ اے پی ایس کے حوالے سے جاری کیے
گئے بیان میں کہا ہے کہ 16 دسمبر دہشت گردی کے خلاف پورے پاکستان کے ایک
آواز ہونے کا دن ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے
کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد ثابت
قدمی سے جاری رہے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دن پوری دنیا کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہماری جدوجہد اس عفریت کے مکمل خاتمے تک اسی آہنی ارادے اور ثابت قدمی سے جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہر سال 16 دسمبر کا دن پوری قوم کو اُس کرب اور دکھ کی یاد دلاتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ 16 دسمبر کو دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ظلم کی داستان رقم کی۔
واضح
رہے کہ 16 دسمبر2014 کو یاد کرکے آج بھی روح کانپ جاتی ہے، اُس صبح 6
دہشتگردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں گھس کرطلبا اور ٹیچرز کو
یرغمال بنایا اور اندھا دھند گولیان برسائیں، سفاک درندے جو جو سامنے آتا
رہا اُس کی زندگی چھینتے رہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے
اسکول کا گھیراؤ کیا اور خود کار اسلحے سے لیس کالعدم تحریک طالبان پاکستان
کے 6 خود کش حملہ آوروں کو طویل آپریشن کے بعد جہنم واصل کیا۔
6 گھنٹے
سے زائد آپریشن کے بعد اسکول کو کلئیر کیا گیا، سانحے میں 132 طلبا، اساتذہ
اورعملے سمیت 150افراد شہید ہوئے، اس واقعے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں
نئی روح پھونک دی، جس کے بعد حکومت اور دیگر اداروں نے مل کر نیشنل ایکشن
پلان بنایا اور شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کا
صفایا کیا گیا۔
حملے میں ملوث 4 دہشت گردوں کو دسمبر 2015ء میں سزائے
موت دیدی گئی ان ملزمان کو ملٹری کورٹس نے سزائے سنائیں جس کی اس وقت کے
آرمی چیف نے توثیق کی تھی۔