توانائی بحران؛ بازار،
ریستوران 8 بجے، شادی ہال 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ ، سرکاری اداروں میں 20
فیصد افرادی قوت گھر سے کام کرے تو 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، وفاقی وزرا
کی پریس کانفرنس ، وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ای بائیکس آنے سے 86 ارب روپے
کی بچت ہوگی
حکومت نے توانائی بچت قومی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے شادی ہالز رات 10 بجے جبکہ مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قمر زمان کائرہ اور مریم اورنگزیب کے ساتھ پریس
کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کی پالیسی دی جا رہی ہے، اس سلسلے
میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں سیکرٹری پاور، وزیر دفاع سمیت 10 وزرا
شامل ہیں۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ سرکاری اداروں میں 20 فیصد افرادی قوت گھر
سے کام کرے تو 56 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ متبادل
اسٹریٹ لائٹس جلانے سے 4 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ ای بائیکس متعارف کروائی
جارہی ہیں، محدود مدت کے اندر یہ موٹر سائیکلیں مارکیٹ میں آ جائیں گی۔
امپورٹ شروع ہو چکی ہے، موٹر سائیکل کمپنیوں کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت
جاری ہے۔ ای بائیکس آنے سے 86 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان
اقدامات کے لیے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔
پریس کانفرنس کرتے
ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ شادی ہالوں کے اوقات رات 10 بجے تک ہوں گے
جب کہ ریستوران اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کر دی جائیں گی۔ ان اقدامات سے
62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ پرانے پنکھے 120 سے 130 واٹ بجلی استعمال کرتے
ہیں جب کہ نئے پنکھے تقریباً 40 سے 60 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ان
پنکھوں کے استعمال سے 15 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ
ایل ای ڈی بلب کے استعمال سے 23 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ گھروں میں پنکھے اور
ائرکنڈیشنڈ کے استعمال میں بچت سے 8 سے 9 ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی
ہے۔ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں 28 ارب ماہانہ بچت ہوگی۔ گیس فراہم کرنے والی
کمپنیاں گیزر کے لیے بچت کے آلات فراہم کریں گی، جس سے 92 ارب روپے سالانہ
کی بچت ہوگی۔