دنیا جانتی ہے کراچی میں
دہشتگردی کا آغاز کس نے کیا تھا، وسیم اختر کا شرجیل میمن کے بیان پرردِعمل
، سابق میئر کراچی کا کہنا تھا کہ شہر کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ
حالی کا شکار ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں
متحدہ
قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر نے کہا ہے کہ
ایڈیشنل آئی جی کا بیان اسٹریٹ کرائمز روکنے میں ناکامی کا اعتراف ہے ،
اسٹریٹ کرمنلز کے آگے پولیس ناکام ہوچکی، اب ڈی جی رینجرز کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کا جو لوگ باہر سے بائیکاٹ کرنے کا کہتے ہیں وہ کراچی آکر بائیکاٹ کریں۔
ایم
کیو ایم کے عارضی مرکز پر پریس کانفرنس کے دوران وسیم اختر کا کہنا تھا کہ
کراچی کے عوام ڈکیتوں کے خوف کے سائے زندگی گزار رہے ہیں، پوچھنا تھا کیا
کراچی کے عوام اپنی حفاظت کا انتظام خود کریں؟ ایڈیشنل آئی جی کا ڈاکوؤں
سے مزاحمت نہ کرنے کا بیان کراچی میں اسٹریٹ کرائمز روکنے میں ناکامی کا
اعتراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ایڈیشنل آئی جی پولیس کے بیان اور اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا نوٹس لیں۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ صاحب اس معاملے پر فوری ایکشن لیں
انہوں
نے استفسار کیا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کا کیا ہوا؟ شہر کا کمانڈ اینڈ کنٹرول
سسٹم تباہ حالی کا شکار ہے، گزشتہ کچھ دنوں میں ڈکیتی مزاحمت کی وارداتوں
میں 7 جوان بچوں کو شہید کردیا گیا ہے۔
وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ایم
کیو ایم پاکستان کے دروازے ہر کسی کے لیے کھلے ہیں، وسیم آفتاب، ڈاکٹر
صغیر اور دیگر پی ایس پی کے کارکنان واپس پارٹی میں آئے ہیں، اسی طرح جو
واپس آنا چاہے بطور ورکر واپس آجائے۔
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا
کہ عدالتوں میں مقدمے ایم کیو ایم پاکستان بھگت رہی ہے اور وہ بیرون ملک سے
بیٹھ کر بائیکاٹ کا بیان دے رہے ہیں۔