سال 2022 پاکستانی معیشت
کیلئے بہت مشکل رہا، مہنگائی اور بیروزگاری بڑھی ، 2022 میں اسٹاک مارکیٹ
میں سرمایہ کاروں کے ہزار ارب ڈوب گئے ، پاکستانی معیشت کے لئے سال 2022
ڈراؤنا خواب ثابت ہوا
سال 2022 پاکستانی معیشت کیلئے بہت مشکل رہا، صنعتی پیداوار میں کمی ہوئی، بے روزگاری بڑھی اور مہنگائی عروج پر پہنچی۔
رواں
برس جیسے ملک کے حالات خراب رہے، ویسے ہی اسٹاک مارکیٹ کی صورت حال بھی
دگرگوں رہی، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے ہزار ارب ڈوب
گئے۔کاروباری برادری سمجھتی ہے ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی چیلنجز
پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔
پاکستانی معیشت کے لئے سال 2022 ڈراؤنا
خواب ثابت ہوا، زرمبادلہ کے زخائر 22 ارب 83 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 12 ارب
ڈالر پر آگئے، مہنگائی کی شرح 26 فی صد تک پہنچ گئی، ڈالر کی قدر بڑھ کر
176 روپے سے بڑھ کر 224 روپے پر آگئی، ڈالر کی قلت اور اس کے مہنگا ہونے کی
وجہ سے درآمدات پر پابندیاں لگائی گئی، نتیجتا صنعتی پیداوار میں کمی
ہوگئی۔
مارچ میں نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سرمایہ کاروں کے
اعتماد کو ایسی ٹھیس پہنچائی جو کبھی نہیں دیکھی گئی، ایک سال کے دوران صرف
بیرونی سرمایہ کاروں نے ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کر
ڈالے۔
جنوری 2022 کے آغاز پر انڈیکس 44 ہزار 596 پوائنٹس کی سطح پر
تھا، مارکیٹ اب تک 4 ہزار پوائنٹس سے زائد نیچے آ گیا ہے، یعنی منافع کی
آس میں بیٹھے سرمایہ کاروں کو 11 فی صد گھاٹا دیکھنے کو ملا۔
ماہرین کا کہنا ہے 2023 بھی سرمایہ کاروں کے لیے مشکل سال ہو سکتا ہے، واضح رہے کہ اسٹاک مارکیٹ کو معیشت کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے۔
کاروباری
طبقے کا کہنا ہے کہ سال 2022 تو جیسے تیسے گزر گیا لیکن سال 2023 میں
معاشی استحکام لانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک بیچ پر آنا ہوگا۔
کاروباری برادری سمجھتی ہے ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی چیلنجز پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔