ایم کیو ایم اور پی ایس پی
کو متحد کرنے میں پیش رفت ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال سے ملاقات،
مستقبل میں ساتھ چلنے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ، گورنر سندھ کا کہنا
ہے کہ مجھے کسی نے نہیں کہا کہ سیاسی رہنماؤں سے ملوں
ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو ایک کرنے کے لئے بڑی پیش رفت ہوگئی۔
گورنرسندھ
کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ تنقید چھوڑیں، اختلافات بھلائیں، ہاتھ
تھامیں، مجھے کسی نے نہیں کہا کہ شہر میں جگہ جگہ جاؤں، سیاسی رہنماؤں سے
ملوں۔
کنوینئر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی کی پی ایس پی
چئیرمین سید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سے ملاقات ہوئی جس میں اہم امور
پر تبادلہ خیال ہوا ، ماضی کو بھلا کر ساتھ سیاست کرنے کے امور زیر بحث
آئے ۔اور مستقبل میں ساتھ چلنے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات
خوشگوار ماحول میں ہوئی جبکہ اس اہم ملاقات سے چند گھنٹے قبل گورنر سندھ
کامران ٹیسوری سے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی ملاقات ہوئی تھی ۔
ایم
کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام کی کوششیں تیز ہو گئیں، اس سلسلے میں گزشتہ شب
گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایس پی آفس پاکستان ہاؤس پہنچ گئے، جہاں
انہوں نے سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی سے ملاقات کی،
مصطفیٰ کمال نے انہیں گلدستہ پیش کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آنے والے 8
سے 10 دنوں میں مزید ملاقاتوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس میں مستقبل
میں ساتھ چلنے کے روٹس طے کئے جاسکتے ہیں ۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے
کہا کہ فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس شہر کا بیٹا ہوں، میں مہاجر اور سچا
پاکستانی ہوں، جب یہ منصب مجھے دیا گیا تو اس پر بڑی تنقید کی گئی، مصطفیٰ
کمال اکیلے ہی تھے جنہوں نے میری تعریف کی، میں نے ایک ہی جواب دیا تھا کہ
میرا کام آنے والے وقت میں بتائے گا کہ فیصلہ درست تھا یا غلط۔
خالد
مقبول صدیقی کی ایم کیو ایم کی سینئر قیادت سے مشاورت جاری ہے جبکہ دوسری
جانب پی ایس پی کی اعلی قیادت نے بھی اپنے رہنماؤں اور کارکنان کو اعتماد
میں لینا شروع کردیا ۔بلدیاتی انتخابات سے قبل اتحاد ہونے کا امکان ہے ۔
ذرائع
کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کے ذریعے فاروق ستار سے بھی رابط کیا گیا ہے اور
ان کو بھی ساتھ لے کر چلنے پر بات جاری ہے تاہم تینوں فریقین خالد مقبول
صدیقی کی قیادت پر رضامند ہونے کا امکان ہے جبکہ پارٹی کانام ایم کیو ایم
پاکستان انتخابی نشان پتنگ ہی رہے گا ۔ مصطفی کمال ، انیس قائم خانی ،
ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر رہنماؤں کو باقار طریقے سے واپس لایا جا سکتا
ہیں ۔
دوسری جانب فواد چوہدری نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر
بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی روشنیوں کا شہر تھا، پھراسٹیبلشمنٹ کو
خیال آیا کہ ہماری پارٹی ہونی چاہیے، سارے غنڈے جمع کر کے ایم کیوایم بنا
دی گئی۔
اُن کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ پھرخیال آ رہا ہے بارود کا ڈھیر اکٹھا کر کے شہر میں چراغاں کی کوشش کی جائے۔