Jan 03, 2023 01:35 pm
views : 337
Location : Islamabad high court
Islamabad- IHC rejects ECP's request to suspend Islamabad LG polls order
اسلام آباد بلدیاتی الیکشن؛
سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد ، یونین کونسلز کی تعداد
میں اضافے کی صورت میں الیکشن کیلیے چار پانچ ماہ چاہیے ہوں گے، ڈی جی لا
کا عدالت میں جواب ، عدالت نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو جواب کے لیے
نوٹسز جاری کردیے۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات پر سنگل بینچ کا
فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
عدالت
عالیہ نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق اپیلوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے
ہوئے 9 جنوری کو جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت
امتیاز پر مشتمل بینچ نے الیکشن کمیشن کی سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی
درخواست مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو نوٹس جاری کردیے۔
بلدیاتی
انتخابات فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی اپیلوں کی سماعت
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
اپیلوں میں سنگل بینچ کا 31 دسمبر کو اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کرانے
کا فیصلہ چیلنج کیا گیا تھا۔
دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے الیکشن کمیشن
کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس عدالت کے فیصلے کو سنگل بینچ نے مد نظر
نہیں رکھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب الیکشن کمیشن کو یہ معاملہ بھیجا
گیا تو کیا ہوا ؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ 27 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے 31
دسمبر کے الیکشن ملتوی کرنے کا حکم دیا۔ 28 دسمبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے
کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ 28 دسمبر کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ حتمی ہے۔
عدالت
نے کہا کہ 125 یونین کونسلز کا قانون بن جاتا ہے تو کتنے دن چاہیے ہوں
گے؟۔ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ چار پانچ ماہ ہمیں چاہیے ہوں
گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک چیز تو سنگل بینچ نے ٹھیک لکھی ہے،
جس وجہ سے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا تھا وہ انہوں نے دیکھا ہی
نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی وفاقی
دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانے کے حکم کے خلاف اپیلیں
قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسے بعد میں جاری کرتے ہوئے سنگل
بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے پی ٹی آئی
اور جماعت اسلامی کو جواب کے لیے نوٹسز جاری کردیے۔
رہنما جماعت اسلامی میاں اسلم کا کہنا تھا
رہنما ن لیگ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا