Jan 05, 2023 02:10 pm
views : 323
Location : Different Places
Karachi- Traders rejects centre's decision of early closure of markets, wedding halls
ملک کے
بیشتر شہروں میں دکانیں جلد بند کرنے کے وفاقی حکومت کے حکم پر عمل نہیں
ہوا جبکہ ملک میں تیل درآمد کرنے کے لیے پی ایس او کا لیٹر آف کریڈٹ ڈیفالٹ
ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے
ملک کے
بیشتر شہروں میں دکانیں جلد بند کرنے کے وفاقی حکومت کے حکم پر عمل نہیں
ہوا جبکہ ملک میں تیل درآمد کرنے کے لیے پی ایس او کا لیٹر آف کریڈٹ ڈیفالٹ
ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دکانیں
معمول کے مطابق کھلی رہیں، کراچی میں بھی وفاقی حکومت کے ساڑھے 8 بجے
دکانیں بند کرنے کے اعلان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔
کراچی میں زینب مارکیٹ، بوہری بازار، کوآپرٹیو مارکیٹ اور طارق روڈ پر مقررہ وقت کے بعد بھی کاروبار جاری رہا۔
پولیس حکام کے مطابق دکانیں بند کرانے کے احکامات تاحال موصول نہیں ہوئے۔
تاجر رہنماؤں عتیق میر ، جمیل پراچہ، شرجیل گوپلانی نے کراچی میں پریس کانفرنس کی۔
شرجیل
گوپلانی نے کہا کہ پورٹ پر کنٹینر پر ڈیمیجنگ کی مدد میں لاکھوں ڈالز باہر
جا رہے ہیں مگر ہمیں ڈالرز نہیں دیے جا رہے، بلکہ زبردستی امپورٹرز کے
اکاؤنٹس سے پیسے نکالے جا رہے ہیں، ہماری دکانیں بند ہو گئیں تو بے روزگاری
بڑھ جائے گی، اگر زبردستی فیصلہ تھوپا گیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
دوسری
جانب میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کا گردشی قرضہ
ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 613 ارب روپے پر پہنچ گیا، گیس اور پاور
کمپنیاں پی ایس او کی اربوں روپے کی نادہندہ ہیں۔
ڈالر کی قیمت میں اضافے سے پی ایس او کو 14 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔
لیٹر
آف کریڈٹ بچانے کے لیے پی ایس او نے حکومت سے 50 ارب مانگ لیے ہیں، لیٹر
آف کریڈٹ ڈیفالٹ کر گیا تو تیل کی درآمد متاثر ہو جائے گی۔