آفاق احمد کا متحدہ قومی
موومنٹ کا حصہ بننے سے انکار چیئرمین ایم کیو ایم حقیقی آفاق احمد کا کہنا
ہے کہ ملاپ کرکے مہاجروں کے جذبات مجروح نہیں کرسکتا، سندھ حکومت عوام کو
اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت دے
مہاجر
قومی موومنٹ (ایم کیو ایم-حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد نے متحدہ قومی
موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔
اپنی رہائش
گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفاق احمد نے بلدیاتی الیکشن سے قبل جلد نئی
بندیاں کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی الیکشن سے قبل جلد نئی
حلقہ بندیاں ہونی چاہیے۔
آفاق احمد نے تمام قیاس آرائیوں کا جواب دیتے
ہوئے کہا کہ میری جنگ اقتدار کے لئے نہیں، مہاجروں کے لئے ہے۔ میں ملاپ
کرکے مہاجروں کے جذبات مجروح نہیں کرسکتا ، انہوں نے کہا کہ ہم متحدہ کی
جماعتوں کے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، ہمارا ایم کیو ایم پاکستان سے کبھی
کوئی تعلق نہیں رہا۔
چیئرمین ایم کیو ایم حقیقی نے مزید کہا کہ گورنر
سندھ کامران ٹیسوری پر واضح کرتے ہیں کہ ہم متحدہ کی جماعتوں کے اتحاد کا
حصہ نہیں بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا، کامران ٹیسوری آنا چاہتے ہیں تو آئیں لیکن اتحاد کے لیے نہ آئیں۔
چیئرمین
ایم کیو ایم حقیقی نے کہا کہ ’گورنر صاحب آپ کا مہاجر بھائی ہوں چائے
پینے آئیں، ہماری مقبولیت اگر نہیں ہے، تب بھی عوام کے خلاف نہیں جائیں
گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ایم کیو ایم، پی ایس پی اور ایم کیو
ایم بحالی کمیٹی کے ایک ہونے کی بات کی جارہی ہے، مہاجر قومی موومنٹ کو بھی
اس اتحاد میں شامل کرنے کی افواہیں شامل ہیں۔
چیئرمین ایم کیو ایم
حقیقی نے کہا کہ تمام لوگوں کو سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، حلقہ بند
یوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کی دعوت ملی تو مشورے سے فیصلہ کریں گے۔
ان
کا کہنا تھا کہ ہم کراچی میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے سے متعلق
حکومتی تمام فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں۔ کراچی میں جلد کاروبار بند کروانا
ظلم ہے، وفاق اپنے تمام فیصلے آئی ایم ایف کے دباؤ میں کر رہا ہے۔ جن کا
مقصد کراچی کو حاصل کرنا ہے۔
چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد نے
سٹریٹ کرائم پر پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پولیس کراچی میں
اسٹریٹ کرمنلز کو لگام ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ، شہر میں
2022ء کے دوران 56 ہزار وارداتیں رپورٹ ہوئیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال
پولیس کو 156 ارب روپے دیے گئے، ایڈیشنل آئی جی اپنی ناکامی کا اعتراف
کرچکے ہیں۔
آفاق احمد نے کہا کہ حکومت اب عوام کو اپنی حفاظت کے لیے
اسلحہ لائسنس فراہم کرے اور اسٹریٹ کرائمز میں ہلاک افراد کے لواحقین کی 25
لاکھ فی کس کے حساب سے امداد کی جائے۔