گوادر میں شر پسندوں کیخلاف
کارروائی کی ہے ، وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ قا
نو ن ہاتھ میں لینے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے ، لیاقت بلوچ کا
کہنا ہے کہ گوادر دھرنے کے تسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد
کررہے ہیں
وزیر
داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہاہے کہ گوادر میں شر پسندوں کیخلاف
کارروائی کی ہے ،عام شہریوں کو بچانے کیلئے فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا
لیکن طے ہے کہ قا نو ن ہاتھ میں لینے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے
،مولانا ہدایت الرحمن قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے۔
صوبائی
وزیر داخلہ نے کہاکہ گوادرمیں600سے زیادہ افراداحتجاج کررہے تھے اسی لئے
سیکورٹی فورسزکی تعدادمیں اضافہ کیاگیااگر کوئی قانون کی خلاف ورزی
کرنیوالا گرفتار نہیں ہوا تو تین سال بعدبھی گرفتار ہوجاتاہے ،مولانا ہدایت
الرحمان قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
میر ضیا اللہ لانگو نے کہاکہ
گوادرمعاملے پرجماعت اسلامی کے رہنما ء لیا قت بلوچ سے ملاقات ہوئی ہے
،لیاقت بلوچ سے ابھی ملاقا ت ہوئی زیادہ باتیں نہیں ہوئیں جو بھی بات ہوئی
سب کیساتھ شیئر کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ جہاں قا نو ن
کی بات آجاتی ہے تو ہم کچھ نہیں کرسکتے ہرمعاملے پربات ہوسکتی ہے،قانون
کوہاتھ میں لینے کے حوالے سے کچھ نہیں کرسکتاکسی کوقانون ہاتھ میں نہیں
لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری جانب نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
لیاقت بلوچ نے کہاکہ پرامن جمہوری لوگوں پر طاقت کا
استعمال،تشدد،گرفتاری،جھوٹے مقدمات سے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا
ہم حق دوتحریک وحکومت کے درمیان حالات کی بہتری،مقدمات ختم،بے گناہوں کی
رہائی، گوادر دھرنے کے تسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد کررہے
ہیں گوادر کا حق دو تحریک دھرنا جمہوری پرامن دھرنا تھا اور حکومت نے ان کے
مطالبات اس سال قبل تسلیم بھی کیے تھے لیکن عمل درآمد نہ کروا کر دھرنے پر
حملہ کرکے حالات کو خراب کیے گیے۔
انکا کہنا تھا کہ ہم حق دو تحریک کے
قائدین سے مشورہ کرکے گوادر کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے پرامن راستہ
ضرور نکالیں گے قانون وآئین پر عمل ہوریاست،حکومت وادارے کے نظام کے مطابق
چلیں عوام کو آئین کے مطابق حق نہ دینے سے عوام دھرنے واحتجا ج پر مجبور
ہوتے ہیں جب عوام سے جمہوری حق چھین لیا جاتا ہے تشددگولی وطاقت کے ذریعے
پرامن جمہوری لوگوں کو دبایاجاتا ہے تو عوام کہاں جائے کس سے انصاف
مانگیں۔ہم جمہوری قاونی طریقے سے مسائل حل کرناچاہتے ہیں کسی سے رعائت نہیں
مانگتے۔