کراچی پورٹ پر کنٹینر ریلیز
نہ ہوسکے ، کراچی میں تاجروں کا اسٹیٹ بینک کے باہر دھرنا ، کراچی ٹمبر
مرچنٹس گروپ کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال ، مظاہرین کا بندرگاہوں پر رکے 6
ہزار کنٹینرز ریلیز کرنے کا مطالبہ
بینکوں
کی ترسیلی قبولیت کی دستاویز، ایل سیز کی قبولیت نہ ہونے کے خلاف کراچی کے
تاجر سڑکوں پر نکل آئے ،کراچی ٹمبر مرچنٹس گروپ کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال
کی گئی اور ٹمبر مارکیٹ کی تمام دکانیں بند رہیں۔
ملک
میں زرمبادلہ کی کمی کے باعث لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) نہ کھولنے کے خلاف
شہر قائد میں تاجر سڑکوں پر نکل آئے اور اسٹیٹ بینک کے باہر دھرنا دے
دیا۔
ٹمبر مارکیٹ کے بیوپاریوں کی احتجاجی ریلی اسٹیٹ بینک پہنچی اور اس
کے اقدامات کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے بینک کے باہر دھرنا دیدیا۔ دھرنے
کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ پر ٹریفک جام ہوگیا۔
ٹمبر مارکیٹ کے
بیوپاریوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ شرکاء نے لکڑی کی تجارت بچاؤ، ڈالر دو کے
نعرے لگائے۔ انہوں نے تاجر اور معیشت بچاؤ کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔
احتجاجی ریلی کے باعث شدید ٹریفک جام ہوگیا۔
دالوں واجناس کے بیوپاریوں
کی احتجاجی ریلی بھی اسٹیٹ بینک پہنچی۔ کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن
کی احتجاجی ریلی میں شرکاء نے شدید نعرہ بازی کی۔
شرکاء نے بندرگاہوں پر
رکے 6 ہزار کنٹینرز ریلیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنٹینرز
ریلیز ہونے کے بعد ہم درآمدات بند کردیں گے۔
مظاہرین نے مارکیٹ میں قائم مختلف بینکوں کی شاخوں کو بھی بند کرادیا اور علاقے کے 16 بینکوں کے مینجرز کو تالے تھما دیے۔
تاجروں
کا کہنا تھا کہ لکڑی کے 700کنٹینرز 45دن سے بندرگاہوں پر کلئیرنس کے منتظر
ہیں، مزید 2000کنٹینرز سمندری راستے میں ہیں جو پاکستان پہنچنے والے ہیں،
اسٹیٹ بینک کے عدم تعاون کے خلاف ٹمبر کی 1600 دکانیں احتجاجا بند کردی گئی
ہیں۔
اس موقع پر آل سٹی تاجر اتحاد اور آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ
شبیر بھوری والا کا کہنا تھا