Feb 01, 2023 05:07 pm
views : 328
Location : Different Places
Islamabad- PM vows to overcome menace of terrorism with collective efforts, wisdom
پختونخوا
کو انسداددہشت گردی کیلیے اربوں روپے دیے، کہاں گئے؟ وزیراعظم کا کہنا ہے
کہ خیبر پختونخوا کو 417 ارب روپے ادا کیے جا چکے ، فی الفور اقدامات نہ
کیے گئے تو دہشت گردی ملک بھر میں پھیل جائے گی
وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے اربوں
روپے دیے گئے، ان کا حساب دیا جاے کہ وہ کہاں گئے؟۔قوم پوچھ رہی ہے دہشت
گردوں کو کون واپس لایا، کس طرح کے پی دوبارہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں چلا
گیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا کہ پشاور دھماکاافسوسناک ہے۔ تاریخ خیبر پختونخوا کی
ماؤں ،بہنوں اور بیٹوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی ، صوبۂ
خیبرپختون خوا کو 2010ء سے 2023ء تک 417 ارب روپے دیے گئے ہیں، خیبر پختون
خوا کو یہ 417 ارب روپے این ایف سی کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں، مگر وہ
کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، تو یہ 417 ارب روپیہ کہاں استعمال ہوا؟۔
انہوں نے کہا کہ بہتان بازی نہیں کررہا،2010ء سے اب تک دہشت گردی سے نمٹنے
کے لیے رقم دی گئی ۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پیسے خیبر پختون خوا کی
پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بہتری کے لیے استعمال ہونا تھا، فی الفور
مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو دہشت گردی پھیل جائے گی۔
پالیسی بیان دیتے
ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس وسائل تھے تو ہم نے سی ٹی ڈی
قائم کی۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے۔
خیبرپختونخوا کو اربوں روپے ملے جوکسی اور صوبے کونہیں ملے۔ پی ٹی آئی نے
10سال خیبرپختونخوا میں حکومت کی اور پھر کہا کہ وسائل نہیں
ہیں۔صوبے کو دیا گیا پیسہ خیبرپختونخوا کی پولیس اور سکیورٹی فورسزکی بہتری
کے لیے استعمال ہوناتھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ بہادر اور
غیور عوام کی ہمت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، تاریخ کبھی بھی خیبر
پختون خوا کی قربانیوں کو نہیں بھول سکتی ، ایوان کو حقائق بتانا اصل مقصد
ہے۔ 2 آپریشنز میں دہشت گردوں پر کاری ضرب لگی۔ دہشت گردی کے نتیجے
میں بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں اور دہشت گردی کا یہ ناسور پھر سر
اٹھارہا ہے۔ نیکٹا اور سی ٹی ڈی کو بنایا گیا۔ صوبے میں کام ہوا ،پھر
بھی شکوہ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے منہ میں خاک،تاریخ میں
ہمارا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے
واقعے پر کراچی سے خیبر تک ہر آنکھ اشکبار ہے ، اگر فی الفور اقدامات نہ
کیے گئے تو دہشت گردی ملک بھر میں پھیل جائے گی، میں نے وہ حقائق بتائے ہیں
جو کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔