خود کش حملہ آور مہمانوں کے روپ میں اندر آیا، تفتیشی ٹیم
امریکی
سینٹ کام کمانڈر جنرل کوریلا نے پشاور خودکش دھماکے کے بعد آرمی چیف جنرل
عاصم منیر کو ٹیلی فون کیا جبکہ پولیس لائنز مسجد دھماکے کی تفتیشی ٹیم نے
انکشاف کیا ہے کہ خود کش حملہ آور مہمانوں کے روپ میں اندر آیا۔
خودکش حملہ آور کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے آج ارسال کیے جائیں گے جس کے بعد پیشرفت رپورٹ سامنے آئے گی۔
تفتیشی
ٹیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مختلف اوقات میں آنے والے چار مشتبہ افراد
کی انٹری پر کام جاری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ مشتبہ افراد سہولت کار تو
نہیں تھے۔
پولیس لائنز اور اطراف کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل
کرلی گئیں۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق حملہ آور کو پولیس لائنز سے سہولت ملنے کا
عنصر تحقیقات میں شامل ہے۔
دوسری جانب، دھماکے کے بعد پولیس لائنز کے
داخلی راستوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ مرکزی دروازے پر
اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں نے پولیس لائنز کے تمام اسٹاف
کی پروفائلنگ بھی شروع کر دی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ
انصاری کا کہنا ہے کہ بڑے آپریشن کے لیے پوری آبادی کے انخلا کی بات ہوگی،
تو ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ انٹیلی جنس بیس آپریشنز ہونے چاہیے۔
انہوں
نے واضح کیا کہ پولیس لائنز میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا، خودکش حملہ
آور کا سر اور کچھ اعضاء ملے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے سیمپلنگ فرانزک
کے لیے بھجوا دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے دھماکے کی وجوہات کا تعین کر
رہے ہیں۔
آئی جی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کنٹرول کسی علاقے پر اس طرح نہیں ہے جس طرح 10، 12 سال پہلے تھا۔
دوسری جانب امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل کوریلا نے پشاور خودکش دھماکے کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ٹیلی فون کیا۔
اس موقع پر انسداد دہشت گردی اور سرحدی سلامتی پر بھی گفتگو کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق آرمی چیف سے پشاور پولیس لائنز میں دہشت گرد حملے پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
وائٹ
ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے اپنے بیان میں کہا
کہ امریکہ پشاور میں ایک مسجد پر ہونے والے خودکش بم حملے کی مذمت کرتا ہے ،
یہ افسوسناک اور دل دہلا دینے والی خبر ہے اور ہم اپنی جانوں سے ہاتھ دھو
بیٹھنے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔
واٹسن نے مزید کہا کہ
دہشت گردی کا دفاع نہیں کیا جاسکتا اور نمازیوں کو نشانہ بنانا غیر ذمہ
دارانہ ہے، امریکہ بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کے لیے
تیار ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز پشاور کی پولیس لائنز کی مسجد میں
ہونے والے مبینہ خود کش دھماکے میں شہداء کی تعداد 101 ہوگئی ہے جبکہ 216
افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔