بارکھان واقعہ؛ مغوی
خاتون گراں ناز بیٹی اور بیٹوں سمیت بازیاب ، دکی، کوہلو اور بارکھان میں
کارروائیاں کی گئیں، خاتون اور بچوں کو میڈیا کے سامنے لاکر تفصیلات دی
جائیں گی
پولیس
اور لیویز نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران خان محمد مری کی اہلیہ
مغوی گراں ناز کو بیٹی اور بیٹوں سمیت بازیاب کرا لیا۔
ذرائع کے مطابق
مغوی خاتون گراں ناز، اس کی بیٹی اور بیٹوں کو کوہلو سے بازیاب کروایا گیا۔
لیویز اور پولیس ذرائع کے مطابق مغویوں کو کمشنر ژوب ڈویژن کے حوالے
کردیا گیا ہے۔ دکی،کوہلو،بارکھان میں پولیس کی جانب سے کارروائیاں کی گئیں،
جس کے بعد بازایاب افراد کو قانونی کارروائی کے بعد اہل خانہ کے حوالے کیا
جائے گا۔
کوہلو میں ابتدائی چھاپے میں خان محمد کی اہلیہ ، بیٹی اور
بیٹے کو بازیاب کرایا گیا جب کہ دیگر مغوی بچے ،عبدالغفار،عبدالستار بھی
بعد ازاں بازیاب کرا لیے گئے۔ لیویز ذرائع کے مطابق ایک مغوی بچے کو دکی جب
کہ 2 بچوں کو بارکھان ڈیرہ بگٹی بارڈر کے علاقے سے خفیہ اطلاع پر چھاپا
مار کر بازیاب کرایا گیا۔
اغوا کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت
کی کوشش نہیں کی اور آپریشن کے دوران کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔
لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کے تمام 6 افراد سرکار کی حفاظتی تحویل
میں ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق گراں ناز اور ان کے بچوں کو میڈیا کے سامنے
لاکر تمام تفصیلات دی جائیں گے۔
گراں ناز کے شوہر خان محمد مری نے اپنے بازیاب کرائے گئے خاندان کو کوئٹہ میں جاری دھرنے میں لانے کا مطالبہ کر دیا۔
بازیاب
ہونے والی خاتون گراں ناز کے شوہر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے ایک
لاش میرے بیٹے محمد نواز اور دوسری عبدالقادر کی ہے ، بارکھان میں 3 افراد
کے قتل کے الزام میں بلوچستان کے وزیرِ مواصلات سردار عبدالرحمٰن کھیتران
زیرِ حراست ہیں ، پولیس کی مدعیت میں تھانہ بارکھان میں نامعلوم افراد کے
خلاف مقدمہ درج ہے ، گراں ناز نے ویڈیو میں الزام لگایا تھا کہ کھیتران نے
اسے اور اس کے 7 بچوں کو نجی جیل میں قید رکھا ہوا ہے۔
سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے، سرداری سے ہٹانے کی سازش قرار دیا تھا۔