Mar 14, 2023 01:35 pm
views : 371
Location : Different Places
Islamabad- Govt makes Toshakhana gift records public
وفاقی حکومت نے توشہ
خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا، توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے
والوں میں پرویزمشرف، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز
شریف شامل ہیں، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے
سب سے زیادہ تحائف حاصل کیے
وفاقی
حکومت نے کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر توشہ خانہ کا ریکارڈ اپ لوڈ کیا ہے۔
توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات کاریکارڈاپ لوڈکیا گیا ہے۔توشہ
خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، وزرا اور
سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔سابق صدر پرویزمشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت
عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف اور عمران خان کا توشہ
خانہ ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیا گیا ہےدستاویز کے مطابق عمران خان نے توشہ خانہ
سے ساڑھے 8 کروڑ روپے کی ڈائمنڈ گولڈ گھڑی حاصل کی، انہوں نے 56 لاکھ 70
ہزار روپے کے کف لنکس کا جوڑا حاصل کیا، 15 لاکھ روپے کا قلم اور 87 لاکھ
50 ہزار روپے کی انگوٹھی رکھی۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے
چاروں اشیا کے 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپےادا کیے، اس کے علاوہ عمران خان
نے 38 لاکھ روپے کی ایک اورگھڑی 7 لاکھ 54 ہزار روپے ادا کرکے حاصل
کی۔سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کوخانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں
ملا جو انہوں نے 6 ہزار روپے ادا کرکے رکھ لیا، یوسف رضا گیلانی نے 21 لاکھ
روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھا۔دستاویز کے مطابق سابق صدر آصف
زرداری نے 25 ہزار مالیت کا گھوڑے کا ماڈل رکھ لیا، 50 ہزار مالیت کا پستول
توشہ خانہ سے حاصل کیا، انہوں نے دونوں اشیا 9 ہزار 750 روپے میں حاصل
کیںدستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آصف زرداری نے 2 کروڑ 73 لاکھ 39 ہزار
مالیت کی ایک اورگاڑی رکھی، اس گاڑی کے 40 لاکھ 99 ہزار روپے ادا کیے،
انہوں نے ساڑھے 12 لاکھ مالیت کی گھڑی اور 14 ہزار600 مالیت کا گولڈ پلیٹڈ
کویتی سکے کا ماڈل رکھا، سابق صدر نے 6 ہزار 800 مالیت کاسلورپلیٹڈکویتی
سکے کاماڈل بھی حاصل کیا، انہوں نے تینوں اشیا کے ایک لاکھ 89 ہزار روپے
ادا کرکے رکھ لیںانمول گھڑی کی قیمت کا تعین نہیں کیا جاسکتا، دبئی میں
اسٹور منیجر کی نیب کو تصدیقسابق وزیراعظم نوازشریف نے 11 لاکھ 85 ہزار
مالیت کی گھڑی رکھی، نواز شریف نے 25 ہزار روپے مالیت کے کف لنکس اور ایک
عدد قلم رکھ لیا، انہوں نے 15 ہزارمالیت کے 4 کویتی یادگاری سکے بھی توشہ
خانہ سے حاصل کیے اور تینوں اشیا کےلیے 2 لاکھ 43 ہزار روپے ادا
کیے۔نوازشریف کو ملنے والی کار کی مالیت 42 لاکھ55 ہزار 919 روپے لگائی گئی
جو انہوں نے 6 لاکھ 36 روپے ادا کر کے رکھ لی۔دسمبر2018میں صدرعارف علوی
کوپونے 2 کروڑکی گھڑی اور قرآن پاک ودیگرتحائف ملے، انہوں نے قرآن پاک رکھ
کر دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم
ثمینہ علوی کو 8لاکھ روپے مالیت کا ہار ملا، ثمینہ علوی کو 51لاکھ روپے
مالیت کا بریسلٹ بھی ملاجوتوشہ خانہ میں جمع کرایاگیا۔صدرعارف علوی کو 6
لاکھ مالیت کی کلاشنکوف اے کے 47 تحفےمیں ملی اور انہوں نے قانون کے مطابق
رقم ادا کرکے کلاشکوف اپنے پاس رکھ لی۔اس کے علاوہ مئی2006 میں سابق
وزیرخزانہ عمرایوب نے ساڑھے4لاکھ کی گھڑی توشہ خانہ میں دی۔سابق وزیراعظم
شوکت عزیز اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے سب سے زیادہ تحائف حاصل کیے، کم
مالیت کے بیشتر تحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق بغیر ادائیگی رکھ
لیے، 2002 میں 10ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی رکھنے کا
قانون تھا اور 10 ہزار تا4لاکھ روپے کے تحائف 15فیصدرقم ادائیگی کے ساتھ
رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 4 لاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صدریا حکومتی
سربراہان کو رکھنے کی اجازت تھی۔میر ظفر جمالی مرحوم نے خانہ کعبہ کے ماڈل
کا تحفہ وزیراعظم ہاؤس میں نصب کیا، 2018 میں شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑ
50 لاکھ مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، اپریل2018 میں شاہدخاقان عباسی کے
بیٹے عبداللہ عباسی کو 55 لاکھ مالیت کی گھڑی ملی، 2018 میں شاہد خاقان کے
بیٹے نادر عباسی کو ایک کروڑ 70 لاکھ مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، گھڑی کی
قیمت 33 لاکھ 95 ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کروا کر گھڑی رکھی گئی۔2018
میں وزیراعظم کے سیکرٹری فوادحسن فوادکو19لاکھ مالیت کی گھڑی ملی جس کی
قیمت 3 لاکھ 74ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کرائی گئی۔دستاویز کے مطابق
جولائی2009 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع
کرائے۔