Mar 14, 2023 01:36 pm
views : 383
Location : Different Places
Islamabad- Founder MQM London Lost Property Case In London
متحدہ قومی موومنٹ کے
بانی پارٹی قیادت کے بعد لندن میں موجود جائیداد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے،ایم
کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق نے بانی متحدہ اور دیگر ٹرسٹیز کے
خلاف مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں دائر کیا تھا،جج نے کہا ہے کہ ایم کیوایم
پاکستان ہی اصل ایم کیو ایم اور حقیقی بینی فشری ہے
بانی
ایم کیوایم تقریباً 1کروڑ پاؤنڈ کی پراپرٹیزکا کیس لندن ہائی کورٹ میں
ہارگئے ہیں، لندن میں موجود 6 پراپرٹیز میں بانی متحدہ کی رہائش گاہ اور
سابقہ انٹرنیشنل سیکرٹریٹ بھی شامل ہےایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین
الحق نے بانی متحدہ اور دیگر ٹرسٹیز کے خلاف مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں
دائر کیا تھا۔ہائی کورٹ آف جسٹس بزنس اینڈ پراپرٹی کورٹ آف انگلینڈ اینڈ
ویلز کے جج کلائیو جونز نے فیصلہ سنا دیا ہے۔فیصلےکے مطابق ایم کیوایم
پاکستان لندن میں بانی ایم کیو ایم کے زیر کنٹرول 6 پراپرٹیز کی اصل مالک
ہےعدالت میں بانی ایم کیو ایم نے موقف اختیار کیا تھا کہ اصلی ایم کیو ایم
ان کی ہے جو وہ چلا رہے ہیں اور وہ ایم کیوایم اصلی نہیں ہے جو فاروق ستار
نے ہائی جیک کرلی ہے۔جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی
نے اپنی 23 اگست کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم پاکستان سے استعفیٰ دے دیا
تھا، اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہےکہ جج نے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت
ایم کیوایم پاکستان کے حق میں اور ایم کیوایم لندن کے خلاف فیصلہ دے دیا
ہےاب اگلے مرحلے میں ٹرسٹیز کے کردار کا فیصلہ کیا جائےگا، فیصلے میں جج
نے لکھا ہےکہ ایم کیوایم پاکستان کے امین الحق کے وکیل نے یہ ثابت کر دیا
ہے کہ ایم کیوایم کا اپریل 2016 کا آئین منظور کیا گیا تھا جب کہ 2015 کا
آئین منظور نہیں کیا گیا تھا۔ حج نے لکھا ہے کہ بانی ایم کیو ایم نے 23
اگست 2016 کو ایم کیوایم سے عارضی طور پر یا مستقل بنیادوں پر علیحدگی
اختیار کرلی تھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انھوں نے ایک نئی تنظیم قائم
کرلی جو وہ لندن سے چلا رہے تھے اس فیصلے سے بانی ایم کیو ایم اور ان کے
ساتھیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، یہ مقدمہ امین الحق نے متحدہ
قومی موومنٹ پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے پارٹی کے بانی اور دیگر ٹرسٹیز
اقبال حسین ، طارق میر، محمد انور، افتخارحسین، قاسم علی اور یور و
پراپرٹی ڈیولپمنٹس لمیٹڈ کے خلاف اس ٹرسٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیےکیا
تھااقبال حسین، طارق میر اور محمد انور نے ایم کیو ایم کے دعوے کی مخالفت
نہیں کی اور ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ معاہدے کے تحت علیحدہ ہوگئے اب
پہلا مرحلہ ایم کیو ایم پاکستان نے جیت لیا ہے اور جج نے قرار دیا ہے کہ
ایم کیوایم پاکستان ہی اصل ایم کیو ایم اور حقیقی بینی فشری ہے فیصلے سے
ظاہر ہوتا ہے کہ حج نے ایم کیو ایم پاکستان کے پیش کردہ موقف کو تسلیم کیا
اور بانی ایم کیو ایم کی لیگل ٹیم کی جانب سے پیش کردہ کیس پر یقین نہیں
کیا